Al-Risala · May 2017 · page 16

ہار جیت کا دن

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۶

اسلام مکمل ضابطۂ حیات؟

اسلام مکمل ضابطۂ حیات (complete system of life) ہے— یہ بات درست بھی ہے اور نادرست بھی۔ اگر اس بات کو اختیاری پیروی (following) کے معنی میں لیا جائے تو بلاشبہ وہ درست ہے۔ اس کے برعکس اگر اس کو نفاذ (enforcement) کے معنی میں لیا جائے تو یقیناً وہ ایک نادرست بیان ہے، جس کا قرآن وسنت سے کوئی تعلق نہیں۔

مثلاً قرآن میں ہے: یَا اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (33:70)۔ یعنی اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ فردِ مومن کو چاہیے کہ وہ جب بولے تو صحیح بات بولے۔ لیکن اگر اس آیت کا مطلب یہ بتایا جائے کہ ایک ایسا سیاسی نظام قائم کرو، جس میں لوگوں کو مجبور کر دیا جائے کہ صرف درست بات بولنا ہے، نادرست بات ہرگز نہیں بولنا ہے۔ تو آیت کا یہ مفہوم ایک خود ساختہ مفہوم ہوگا، جس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح مثلاً قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا (6:152)۔ یعنی اور جب تم بولو تو انصاف کی بات بولو۔ قرآن کی اس آیت میں ایک انفرادی حکم دیا گیا ہے۔ یعنی ایک فردِ مومن کو چاہیے کہ جب وہ بولے تو ہمیشہ سچی بات بولے، وہ کبھی جھوٹ نہ بولے۔ لیکن اگر قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ بتایا جائے کہ اے مسلمانو، تم ایک ایسا سیاسی نظام قائم کرو جس میں لوگوں کو بذریعہ طاقت اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ ہمیشہ سچ بولیں، وہ کبھی جھوٹ نہ بولیں تو یہ اس آیت کا ایک خود ساختہ مفہوم ہوگا۔ جس کا قرآن کی اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ (42:13)۔ یعنی تم الدین کی پیروی کرو۔ یہ آیت ہر فرد مسلم کو یہ حکم دے رہی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کے بتائے ہوئے دین پر چلے۔ اس کے برعکس، اگر اس آیت کا مطلب یہ بتایا جائے کہ دین کا مطلب اسٹیٹ ہے۔ اور اہل اسلام کا یہ فرض ہے کہ وہ اس دینی اسٹیٹ کو بزور زمین پر قائم (establish

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page