ہار جیت کا دن
الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۷
کریں، اور لوگوں کو مجبور کریں کہ وہ اس سے انحراف نہ کرنے پائیں۔ اگر کچھ لوگ اس آیت کا یہ مطلب بتائیں تو یہ بلا شبہ آیت کا ایک خود ساختہ مفہوم ہوگا۔ اس قسم کے مفہوم کا قرآن کی اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام یقیناً مکمل ضابطہ حیات ہے، مگر وہ مکمل ضابطہ انفرادی زندگی میں اختیاری پیروی کے معنی میں ہے، نہ کہ حکومت کی طاقت سے سسٹم (socio-political system) کے نفاذ کے معنی میں۔
اسلام کا نشانہ یہ نہیں ہے کہ حاکمانہ طاقت سے کوئی سیاسی اور سماجی نظام قائم کیا جائے، جس میں لوگوں کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ اپنی زندگیوں میں صرف دین خداوندی کی اطاعت کریں، ان کو اس سے انحراف کی اجازت نہ ہو۔ اس کے برعکس، اسلام کا نشانہ یہ ہے کہ ہر فرد کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ وہ اللہ سے محبت کریں اور اللہ کا تقویٰ اختیار کریں۔ اس اسپرٹ کو قرآن میں الربانية (آل عمران: 79) کہا گیا ہے۔ قرآن کا نشانہ یہ ہے کہ ہر فرد کے اندر یہ ربانی اسپرٹ پیدا کی جائے ۔ تاکہ وہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اس ربانی اسپرٹ کی تعمیل کرے۔ وہ جہاں بھی ہو، جس حال میں بھی ہو، اس ربانی اسپرٹ پر اپنے کو قائم رکھے۔
اسلام کی تعلیم کے مطابق، موجودہ دنیا دار الامتحان (الملک: 2) ہے، وہ دار النفاذ (place of enforcement) نہیں۔ موجودہ دنیا میں ہر عورت اور ہر مرد کا امتحان (test) لیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اختیار کو اللہ کے مقرر کردہ صراط مستقیم پر چلنے میں استعمال کرتا ہے یا اس سے انحراف کرنے میں۔ امتحان کی اسی مصلحت کی بنا پر موجودہ دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ تاکہ جو چاہے مانے، اور جو چاہے انکار کرے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَقُلِ الحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُر (17:29)۔ یعنی اور کہو کہ یہ حق ہے تمھارے رب کی طرف سے، پس جو شخص چاہے اسے مانے اور جو شخص چاہے نہ مانے۔ دوسری جگہ فرمایا: لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِر (88:22)۔ یعنی تم ان پر داروغہ نہیں۔ اس لیے قرآن میں ایک اصولی حکم کے طور پر فرمایا: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرَّشْدُ