ہار جیت کا دن
الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۸
مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (2:256) ۔ یعنی دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت، گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔ پس جو شخص طاغوت (شیطان) کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔ اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ قرآن میں انسان کے بارے میں خالق کا تخلیقی نقشہ ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (91:8-10) ۔ یعنی پھر اس کو سمجھ دی، اس کی بدی کی اور اس کی نیکی کی۔ کامیاب ہوا جس نے اس کو پاک کیا۔ اور نامراد ہو ا جس نے اس کو آلودہ کیا۔
خالق کے اس تخلیقی نقشے کے مطابق، ہر عورت اور مرد کو اس کے خالق نے مکمل آزادی دی ہے۔ اس کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اپنے اختیار کے مطابق سوچے اور اس پر عمل کرے۔ یہ تخلیقی نقشہ فطری طور پر ہر ایک کے لیے آزادی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے مطابق ، ضابطہ حیات مکمل ہو یا غیر مکمل۔ ہر حال میں وہ انسان کے لیے فریڈم آف چوائس کا معاملہ ہے، نہ کہ کسی اور کی طرف سے جبری نفاذ (compulsory imposition) کا معاملہ۔ جبری نفاذ کا تصور اس معاملے میں تخلیق کے نظام میں مداخلت کے ہم معنی ہے۔ جو خلاف فطرت ہونے کی بنا پر کبھی ورک (work) کرنے والا نہیں۔ معکوس نتیجہ مکمل ضابطہ حیات کے نظریہ کا نتیجہ ہمیشہ معکوس صورت میں نکلے گا۔ مکمل ضابطہ عملاً نامکمل ضابطہ بن کر رہ جائے گا۔ اسلام جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے خیر خواہی کا مذہب ہے، وہ عملاً نفرت اور دشمنی کا مذہب بن کر رہ جائے گا۔
جب آپ کہیں کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات (complete system of life) ہے، تو فوراً ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ نظام (system) پر عملاً ہمیشہ کسی گروہ کا قبضہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق جو قانون یا جو طریقہ حیات پسند کرتا ہے، اس کو وہ رائج کیے ہوئے ہوتا ہے۔