مکمل ضابطہ، نامکمل اسلام
الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۹
ایسی حالت میں اس قسم کا ذہن فورا یہ سوچتا ہے کہ مکمل ضابطہ حیات کو عملاً رائج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زندگی کے نظام پر اس کا مکمل کنٹرول ہو۔ یہی کام اس کو پہلا کام نظر آتا ہے۔ پھر اس کو دکھائی دیتا ہے کہ اس مکمل کنٹرول کے لیے ضروری ہے کہ ’’حکومت کی باگیں‘‘ کسی اور کے قبضہ میں نہ ہوں، بلکہ خود اس کے قبضہ میں ہوں۔ یہاں سے یہ ذہن بنتا ہے کہ اگر اسلام کو مکمل ضابطہ حیات کے طور پر رائج کرنا ہے تو ہم کو زندگی کے نظام پر مکمل غلبہ حاصل کرنا ہوگا۔ اس طرح ذہن کی توجہ تمام تر اس طرف چلی جاتی ہے کہ ’’اقتدار کی باگیں‘‘ کسی اور کے ہاتھ میں نہ ہوں بلکہ آپ کے ہاتھ میں ہوں۔ پھر فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ یہی تصور آدمی کے دماغ پر پوری طرح چھا جاتا ہے۔ پھر فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اصلاح ذات کا تصور پہلے ثانوی درجہ (secondary position) میں چلا جاتا ہے اور پھر بالآخر رفتہ رفتہ یہ ہوتا ہے کہ اصلاح ذات کا معاملہ ایک رسمی معاملہ بن کر رہ جاتا ہے۔ ذہن پر جو چیز چھا جاتی ہے وہ نظام (system) کو بدلنا ہے، نہ کہ اپنی ذات کو بدلنا۔ اس اعتبار سے اگر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ مکمل ضابطہ حیات کا نظریہ عملاً معکوس نتیجہ کا سبب بن جاتا ہے۔ یعنی اس نظریہ کے نتیجہ میں جو چیز ملتی ہے وہ نفرت اور تشدد کا ماحول ہے، جہاں تک نظام زندگی کا تعلق ہے، وہ نہ مکمل معنوں میں حاصل ہوتا اور نہ نا مکمل معنوں میں۔ حقیقت یہ ہے کہ مکمل ضابطہ حیات کا تصور کہنے کے اعتبار سے بظاہر جتنا خوبصورت معلوم ہوتا ہے، عملی نتیجہ کے اعتبار سے وہ اتنا ہی زیادہ غلط ہے۔
مکمل ضابطہ، نامکمل اسلام
میری ملاقات ایک تعلیم یافتہ عرب سے ہوئی۔ وہ اسلام کی انقلابی تعبیر سے متاثر تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا: اسلام دین کامل و شامل۔ یعنی اسلام ایک کامل اور جامع دینی نظام ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا یہ پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ کچھ اور کہیں گے: