دور تائید
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۲۴
(development) کے نام سے انجام دیں گے۔ لیکن عملاً ان کی پیدا کردہ دنیا تائیدی معنوں میں پرو اسلام (pro-Islam) بن جائے گی۔
موجودہ زمانے میں یہ واقعہ کامل طور پر انجام پا چکا ہے۔ وہ چیز جس کو مسلمان عام طور پر اسلاموفوبیا (Islamophobia) کہتے ہیں۔ وہ دراصل پرو اسلام ظاہر (pro-Islam phenomenon) ہے۔ لیکن مسلمان اپنی بے خبری کی بنا پر ایک مثبت واقعے کو منفی واقعے کے طور پر لیے ہوئے ہیں۔ اس منفی طرزِ فکر نے مسلمانوں کو بیک وقت دو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک یہ کہ وہ دور حاضر میں بے جگہ کمیونٹی (displaced) بن گئے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ جدید مواقع (modern opportunities) کو اسلام کے حق میں استعمال کرنے میں عملاً نا کام رہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مغربی قو میں براہ راست معنوں میں اسلام کے حق میں تائیدی رول انجام دے رہی ہے۔ ایسا ہونا غیر فطری ہے۔ اس قسم کا تائیدی رول کبھی کوئی کمیونٹی کسی دوسری کمیونٹی کے لیے انجام نہیں دیتی۔ اصل یہ ہے کہ غیر اہل دین‘‘ کا یہ تائیدی رول براہ راست طور پر نہیں، بلکہ بالواسطہ طور پر انجام پایا ہے۔
موجودہ زمانے میں صنعتی انقلاب (industrial revolution) ہوا۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں ایک نیا ظاہر وجود میں آیا جس کو کثیر پیداوار (mass production) کا ظاہر ہ کہا جاتا ہے۔ نئے صنعتی نظام کے تحت چیزیں اتنی بڑی مقدار میں تیار ہونے لگیں، جن کی کھپت مقامی طور پر ناممکن تھی۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹ کا نیا تصور پیدا ہوا۔ چیزوں کو کمر شیل نظریے کے تحت تیار کیا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں تاریخ میں ایک نیا انقلاب آیا، جو قدیم زمانے میں موجود نہ تھا۔ قدیم زمانے میں ایک مراعات یافتہ طبقہ (privileged class) موجود ہوتا تھا۔ مثلاً بادشاہ اور لینڈ لارڈ، وغیرہ۔ صرف یہی لوگ بڑی چیزوں کو حاصل کر سکتے تھے۔ موجودہ زمانے میں جو کمرشیل انقلاب آیا، اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ ہر چیز ہر ایک کے لیے (everything for everyone) کا کلچر رائج ہو گیا۔ اب ہر چیز ہر ایک کے دسترس میں ہو گئی۔ یہ چیز پہلے کبھی دنیا میں موجود نہ تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues