Al-Risala · June 2017 · page 33

دعوت سے بے خبری

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۳۳

دعوت سے بے خبری

ماہنامہ ترجمان القرآن میں ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: ’’غازی علم الدین شہید‘ (1908-1929ء) نے شانِ رسالت میں گستاخی پر مبنی کتاب کے ناشر راج پال کو قتل (6 اپریل 1929ء) کیا تو علامہ محمد اقبال نے رشک کے ساتھ فرمایا: ’’اسیں گلاں کر دے رہے تے ترکھاناں دامنڈا بازی لے گیا۔ (ہم باتیں کرتے رہ گئے، اور ایک بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا)۔ ‘ ماہنامہ ترجمان القرآن، دسمبر 2010 (عنوان: توہین رسالت کا مقدمہ)۔ اس واقعہ کو عام طور پر پسندیدگی کے انداز میں نقل کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ وہ ایک قابل نقد بات ہے۔ اقبال نے اس واقعہ کو سن کو جو کچھ کہا وہ اسلامی بات نہ تھی۔ صحیح یہ تھا کہ اقبال کہتے کہ اس مسلمان نے ڈبل غلطی کی۔ ایک یہ کہ اس نے خود ہی مذکورہ آدمی کو سزا دی۔ حالاں کہ اسلام میں سزا دینا صرف قائم شدہ عدالت کا کام ہے۔ اس کی دوسری غلطی یہ تھی کہ اس نے مذکورہ غیر مسلم کو مجرم کے روپ میں دیکھا، حالاں کہ اسلام کے مطابق اس کی حیثیت ایک مدعو انسان کی تھی۔ مذکورہ مسلم نوجوان کو چاہیے تھا کہ وہ اس آدمی کے لیے دعا کرے، وہ اس سے ملاقات کر کے گفتگو کرے، وہ اس کو سیرت کی کتابیں پڑھنے کے لیے دے۔

اس معاملے میں صحیح اسلامی موقف کو سمجھنے کے لیے ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ میں اپنی مشرکہ ماں کو اسلام کی دعوت دیتا تھا۔ میں نے ایک دن انہیں دعوت دی تو اس نے رسول اللہ کے بارے میں مجھے ناپسندیدہ بات سنائی۔ میں رسول اللہ کے پاس روتے ہوئے پہنچا، اور کہا: اے اللہ کے رسول، میں اپنی ماں کو اسلام کی دعوت دیتا تھا، مگر وہ قبول نہیں کرتی تھی۔ میں نے آج انہیں دعوت دی تو اس نے آپ کے بارے ناپسندیدہ بات کی، آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ میری ماں کو ہدایت دے۔ رسول اللہ نے دعا کی، اے اللہ ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے۔ چناں چہ ابو ہریرہ کی ماں نے اسلام قبول کر لیا۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1895)

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page