اجتہادی خطا کا معاملہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۳۴
اجتہادی خطا کا معاملہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ یہود کی تمام سنتوں کو اختیار کر لیں گے: ليأتين علي أمتي ما أتى على بني إسرائيل حذو النعل بالنعل (سنن الترمذی، حدیث نمبر (2641)۔ اس حدیث میں یہود کا حوالہ محض تاریخی مثال کے طور پر آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دورِ زوال کا ظاہر ہ ہے۔ جب بھی کسی امت کی بعد کی نسلوں میں زوال کا دور آتا ہے تو اس کے اندر مشترک قسم کی صفات پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ صفات قدیم زمانہ میں یہود (امت موسیٰ) کے اندر پیدا ہوئیں۔ یہی چیزیں بعد کے زمانہ میں مسلمان (امت محمد) کے اندر پیدا ہونے والی تھیں۔ اس لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور انتباہ (warning) پیشگی طور پر امت مسلمہ کے بارے میں یہ بات کہی۔
زوال کے زمانہ میں پچھلی قوموں کے اندر جو خرابیاں پیدا ہوئیں، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أرباباً من دونِ اللهِ (9:31)۔ یعنی انھوں نے اپنے احبار و رہبان کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا۔ قرآن کی اس آیت میں اتخاذ رب کا لفظ شدت اظہار کے معنی میں آیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں یہودی علماء و مشائخ نے بظاہر حسن نیت کے ساتھ اپنے ذاتی اجتہاد کے تحت کچھ طریقے اپنے دین میں اختیار کیے۔ یہودی علماء اور یہودی مشائخ کے یہ طریقے بعد کے زمانے میں مقدس بن گئے، اور یہود کی بعد کی نسلوں نے اس کو اس طرح اختیار کر لیا جیسے کہ وہ شریعت موسیٰ کا حصہ ہوں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عن أبي موسى الاشعری، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن بني إسرائيل كتبوا كتاباً، فاتبعوه، وتركوا التوراة (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 5548)۔ بنی اسرائیل (یہود) نے کتاب لکھی، پھر اس کی پیروی کی، اور تو رات کو چھوڑ دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues