اجتہادی خطا کا معاملہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۳۵
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں امت مسلمہ کے اندر بھی عملاً ایسا ہی ہوا۔ کچھ مسائل میں امت کے اکابر نے ذاتی اجتہاد کے تحت ایک طریقہ اختیار کیا، اور بعد کے زمانے میں امت کے لوگوں نے اس کو مقدس بنا کر اس کو شریعت کا حصہ سمجھ لیا۔ حالاں کہ بعد کے علماء کا یہ فرض تھا کہ وہ کھلے طور پر یہ اعلان کریں کہ یہ ہمارے اکابر کا ذاتی اجتہاد تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے اجتہاد میں کسی بھی شخص سے خطا ہو سکتی ہے۔ یہ ان لوگوں کی اجتہادی خطا تھی، اب ہم ان کو تاریخ ماضی کے خانہ میں ڈالتے ہیں، اور شریعت کے اصل حکم کی طرف واپس آتے ہیں۔ یہاں اس سلسلہ میں چند مثالیں دی جاتی ہیں:
1 - ان میں سے ایک تطلیقاتِ ثلاثہ کا مسئلہ ہے۔ اسلام میں نکاح کی حیثیت اصل (basic principle) کی ہے، اور طلاق کی حیثیت ایک نادر استثناء(rare exception) کی۔ مزید یہ کہ طلاق کا ایک مقرر طریقہ (prescribed method) ہے۔ یہ طریقہ قرآن (البقرۃ: 229) میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے۔
رسول اللہ اور اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کے زمانے میں امت کے اندر یہی طریقہ رائج رہا۔ حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں فراوانی (affluence) کا دور آیا۔ اس کے نتیجہ میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ ایسے واقعات پیش آئے جب کہ لوگوں نے ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیا۔ عمر فاروق نے اس رجحان پر روک لگانے کے لیے یہ کیا کہ کچھ افراد کو بلا کر کوڑے مارے، اور ساتھ ہی تین طلاق کو واقع کر کے زوجین کے درمیان تفریق کرا دی۔ خلیفۂ ثانی عمر فاروق نے یہ طریقہ حکم حاکم (executive order) کے طور پر اختیار کیا تھا۔ حکم حاکم کا اختیار بلا شبہ جائز ہے، لیکن اس کی حیثیت وقتی ہوگی۔ جہاں تک طلاق کے شرعی حکم کا تعلق ہے، وہ وہی رہے گا جو قرآن (البقرۃ: 229) میں مذکور ہے۔ کسی حاکم کو شریعت کے قانون کو بدلنے کا حق نہیں۔ خلیفۂ ثانی نے اپنے زمانے میں جو طریقہ اختیار کیا تھا، بعد کے علماء کے لیے ضروری تھا کہ وہ اعلان کریں کہ یہ ایک وقتی حکم تھا۔ اس سے شریعت کا مسئلہ نہیں بدلتا۔ لیکن اس
‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues