انسان اول کی مثال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۱
اس وقت تمھیں منفی سوچ میں مبتلا نہیں ہونا ہے، بلکہ حاصل شدہ تجربے کی روشنی میں تم کو اپنے کام کی ری پلاننگ (re-planning) کرنا ہے۔ یہی تمھارے لیے اس دنیا میں کامیابی کا راستہ ہے۔ انسان کو موجودہ دنیا میں مکمل آزادی دی گئی ہے۔ اس بنا پر یہاں انسان کے لیے حالات ہمیشہ موافق نہیں رہتے۔ اس دنیا میں انسان کو ناموافق حالات میں راستہ بناتے ہوئے اپنا سفر کرنا ہے۔ یہ اصول سب کے لیے ہے۔ خواہ وہ مذہبی ہو یا سیکولر، وہ طاقت ور ہو یا کمزور۔ یہ حالات ہمیشہ ہر شخص، اور ہر گروہ کے لیے پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی کو ایسا نہیں کرنا ہے کہ وہ کسی اور کو ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان پر پا کرے۔ شکایت اور احتجاج کا طریقہ اس دنیا میں صرف وقت ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی جب یہ دیکھے کہ اس کا پہلا منصوبہ کامیاب نہیں ہوا تو وہ دوسروں کو اس کا ذمہ دار قرار دینے میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ بلکہ خود اپنے حالات کا بے لاگ اندازہ کرتے ہوئے اپنے عمل کے لیے نیا منصوبہ بنائے۔ کامیاب ری پلاننگ کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ آدمی اپنی کوتاہی کا اعتراف کرے۔ وہ ناکامی کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے۔ وہ اس حقیقت کو مانے کہ اس کی ناکامی کا سبب خود اس کے اپنے اندر تھا۔ حالات کا وہ صحیح اندازہ نہ کر سکا۔ اس لیے اب صرف یہ کرنا ہے کہ وہ حالات کا دوبارہ صحیح اندازہ (re-assessment) کرے، اور اس کی روشنی میں حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے عمل کا نیا منصوبہ بنائے۔
زندگی کے لیے ری پلاننگ کا اصول ایک ابدی اصول ہے۔ وہ اول دن کے لیے بھی تھا، اور بعد کے زمانے کے لیے بھی۔ جب تک انسان کو اس دنیا میں آزادی حاصل ہے، اور جب تک اسباب اپنی جگہ قائم ہیں، ہر اک کو اسی اصول پر اپنا کام کرنا ہوگا۔ جو لوگ اس اصول پر کام کریں، وہ اس دنیا میں کامیاب ہوں گے، اور جو لوگ اس اصول کی پیروی نہ کریں، وہ یقینی طور پر اس دنیا میں کامیابی سے محروم رہیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues