Al-Risala · August 2017 · page 22

قرآن کی تصدیق

الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۲۲

(signs) کا حوالہ دے کر قرآن کی آئیڈیالوجی کو علمی طور پر ثابت کرنا۔ اس طرح قرآن میں فطرت کے بہت سے مظاہر کے متفرق حوالے (fragmentary references) دئے گئے ہیں۔ ان حوالوں کے بارے میں قدیم زمانے میں کچھ معلوم نہ تھا۔ گویا کہ قرآن میں یہ حوالے مستقبل کی انسانی نسلوں کو شامل کرتے ہوئے دئے گئے تھے۔ اس طرح انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ قرآن کے ان حوالوں کا تقابل بعد کے حالات سے کر کے قرآن کی صداقت کی تصدیق حاصل کرے ۔ ☆☆☆☆☆ چودھویں صدی ہجری اسلام کی پوری تاریخ میں پہلی صدی تھی جب کہ یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ اسلام کی دعوت توحید کی یُسْر (آسانی) کے حالات میں انجام دیا جائے جب کہ اس سے پہلے صرف عُسْر (سختی) کے حالات ہی میں اس کو انجام دینا ممکن ہوتا تھا۔ اسی طرح یہ واقعہ بھی پہلی بار ہوا کہ خود انسان کے اپنے مسلّمات کے مطابق اسلام کا دیگر ادیان کے مقابلہ میں واحد معتبر دین ہونا ثابت کیا جائے اور اس کو اعلیٰ ترین علمی شواہد سے اس طرح مدلّل کر دیا جائے کہ کسی کے لئے انکار کا عذر باقی نہ رہے۔ نیز اس صدی میں پہلی بار تیز رفتار سواریاں اور تبلیغ کے جدید ذرائع انسان کے قبضہ میں آئے جن سے کام لے کر اسلام کے پیغام کو بین الاقوامی سطح پر پھیلا یا جا سکتا تھا۔ مگر جو قومیں ان خدائی برکتوں کو ہماری طرف لارہی تھیں وہ اتفاقی حالات کے نتیجہ میں ہماری سیاسی حریف بن گئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساری مسلم دنیا مغرب کے بارے میں مخالفانہ نفسیات کا شکار ہوگئی، مغرب کی طرف سے آنے والے انقلاب کا افادی پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ حالاں کہ خدا نے مسلمانوں کے لئے ایسا دروازہ کھولا تھا کہ خود مغرب کے پیدا کردہ حالات دعوتی مقاصد میں استعمال کر کے مغرب کو نظریاتی طور پر فتح کر سکتے تھے ۔ اگر مسلمانوں نے بروقت اس دانشمندی کا ثبوت دیا ہوتا تو چودھویں صدی ہجری میں وہ واقعہ دوبارہ نئے انداز سے پیش آتا جو آٹھویں صدی ہجری میں تا تاری فاتحین کے خادمانِ اسلام بن جانے کی صورت میں پیش آ چکا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues

Printed page