Al-Risala · January 2017 · page 40

سیاسی اقتدار کی نوعیت

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۴۰

سیاسی اقتدار کی نوعیت

اسلام میں سیاسی اقتدار کی اہمیت صرف ایک اعتبار سے ہے، اور وہ ہے پولیٹکل استحکام (political stability)۔ اسی کو قرآن میں تمکین فی الارض (22:41) کہا گیا ہے۔ اسلام میں سیاسی اقتدار کا اصل مقصد عادلانہ نظام یا قوانین کا نفاذ نہیں ہے، بلکہ سماج میں استحکام قائم کرنا ہے۔ جب استحکام ہوگا تو لوگوں کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنے اپنے دائرے میں دینی کام کریں۔ مثلاً مسجد کی صورت میں اقامت صلاۃ کا نظام، مدرسے کی صورت میں دینی تعلیم کا نظام، حج کی صورت میں مسلمانوں میں اجتماعیت کا نظام، دعوت کی صورت میں اسلام کی اشاعت کا نظام، وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ دور اول میں جب خلافت کی جگہ خاندانی نظام (dynasty) قائم ہو گیا تو صحابہ، تابعین، تبع تابعین سے لے کر بعد کے علماء تک عملاً امت کے تمام افراد نے خاندانی نظام حکومت کو قبول کر لیا۔ کیوں کہ اس کے ذریعے سے سماج میں استحکام کا ماحول قائم ہو گیا تھا۔ اس استحکام کی بنا پر اہل ایمان کو موقع ملا کہ وہ دین کے تمام تقاضے پر امن انداز میں پورے کر سکیں۔ مثلاً قرآن کی حفاظت، حدیث کی جمع و تدوین، فقہ کا ارتقاء، مساجد و مدارس کا نظام، عمرہ اور حج کا نظام، اسلامی علوم کی تدوین، وغیرہ۔ یہ سارے کام پر امن ماحول میں ہزار سال تک جاری رہے۔ بیسویں صدی میں مسلمانوں کے اندر بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ ان تمام تحریکوں کا اصل نشانہ پولیٹکل اقتدار تھا۔ سب کا کیس ظاہری فرق کے باوجود ایک ہی تھا، اور وہ ہے سیاسی رخ (political orientation)۔ ان سب کا انجام مشترک طور پر ایک ہی ہوا، اپنے نشانہ کو حاصل کرنے میں ناکامی۔ اللہ کی سنت یہ نہیں ہے کہ جو لوگ اسلام کے نشانے کو لے کر اٹھیں، وہ اپنے نشانے کو پورا کرنے میں ناکام رہیں۔ نشانہ پورا نہ ہونے کا معاملہ کسی غیر کی سازش کا نتیجہ نہ تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان بانیان تحریک نے منصوبہ الہی کو نہیں سمجھا، اور خود ساختہ نشانہ لے کر اٹھ گئے۔ ایسی تحریک کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ اپنے نشانے کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔ یہ تحریکیں بظاہر اب

‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues

Printed page