قرآن کا مقصدِ نزول
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۱
قرآن کا مقصدِ نزول
ایک صاحب نے قرآن کا مقصدِ نزول ان الفاظ میں بیان کیا ہے: کہا جاتا ہے کہ قرآن کا مقصدِ نزول یہ ہے کہ سوسائٹی کے کسی بھی فرد پر ظلم نہ ہو، اور کوئی مظلوم داد رسی اور فریاد سے محروم نہ ہو۔ کوئی شخص بھوکا نہ سوئے، اور معاشی اعتبار سے مسلمانوں میں ایسا تفاوت نہ رہے کہ ایک کی حالت یہ ہو کہ اسے اپنے مال وزر کے انبار کے حساب کی فرصت نہ ہو اور دوسرا نان جوین کو ترسے ۔ ایک کے پاس کوٹھیوں اور بنگلوں کی بہتات ہو تو دوسرے کو سر چھپانے کے لیے جھونپڑی بھی میسر نہ ہو۔ قرآن کریم کے نزول کا مقصد مختصراً یہ ہے کہ انفرادی زندگی میں اس کی تعلیمات پر عمل ہو اور اجتماعی زندگی میں بھی۔ اور جب تک اس پر عمل نہیں، اس وقت تک ہمارا، قرآن کریم پر ایمان لانے اور اس کی تعظیم وتکریم کرنے کا دعوی بے جان ہے۔ (مدیکار محمد بشیر، وانمباڑی) قرآن کا مقصد نزول کیا ہے۔ اس سوال کا جواب خود قرآن میں ڈھونڈ ناچاہیے۔ یہ ایک غیر علمی طریقہ ہے کہ آدمی خود اپنے ذہن میں ایک نقشہ بنائے اور اس کو قرآن کے اوپر چسپاں کردے۔ اس پہلو سے قرآن کو دیکھا جائے تو قرآن میں اس کا جواب ان الفاظ میں ملتا ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ اس آیت کے مطابق قرآن کے نزول کا مقصد انذار (warning) ہے۔ یعنی یہ کہ انسان اپنی زندگی کو صحیح نشانے پر لگائے۔ یہ صحیح نشانہ آخرت کی تعمیر ہے۔ یہ نشانہ حقیقت واقعہ کی بنیاد پر بنتا ہے۔ تخلیقی نقشہ کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان ایک محدود مدت تک رہتا ہے۔ اس کے بعد وہ آخرت کی دنیا میں چلا جاتا ہے، جوکہ اس کی ابدی قیام گاہ ہے۔ موجودہ دنیا میں جو مسائل ہیں، وہ مسائل نہیں ہیں، بلکہ وہ چیلنج ہیں۔ یہ چیلنج اس لیے ہیں کہ انسان کو متحرک کیا جائے۔ انسانی زندگی میں مسائل اس لیے پیش آتے ہیں کہ وہ اس کے لیے محرک (incentive) کا کام کریں۔ تخلیق کے مطابق، موجودہ دنیا جدوجہد کے اصول پر قائم ہے۔ اگر جدوجہد نہ ہو تو دنیا میں ہر طرف جمود (stagnation) کا ماحول قائم ہو جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues