Al-Risala · September 2017 · page 12

اللہ سے امید

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۲

اللہ سے امید

ایک عرب عالم ناصر عبد الغفور نے انٹرنیٹ پر اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ سلف کے نزدیک زیادہ امید والی آیت کے معاملے میں اختلاف ہے۔ امام سیوطی نے پندرہ یا سولہ قول ذکر کیا ہے : اختلف السلف في أرجى آية على أقوال كثيرة عد منها الإمام السيوطي خمسة عشر أو ستة عشر قولا (أرجى آية في القرآن الكريم [ملتقى اهل التفسير])۔ اسی طرح احادیث کے ذخیرے میں بھی ایسی حدیثیں ہیں، جن کو حدیث رجاء کہا جا سکتا ہے۔ انھیں میں سے ایک حدیث قدسی ہے۔ المسند الموضوعي الجامع للكتب العشرة میں مولف کتاب نے باب سعة رحمة الله ومغفرته (1/107) کے تحت مختلف کتابوں سے اس حدیث کی 24 روایتوں کو نقل کیا ہے۔ ان میں سے صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: لما قضى الله الخلق كتب في كتابه فهو عنده فوق العرش إن رحمتي غلبت غضبي (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3194)۔ اس حدیث میں غضب اور رحمت کے جو الفاظ آئے ہیں، اس کی شرح میں الحسین بن محمد عبد اللہ الطیبی (وفات : 743ھ) نے کہا: وأنها تنالهم من غير استحقاق، وأن الغضب لا ينالهم إلا باستحقاق (عمدة القاری شرح صحیح البخاری 15/110)۔ یعنی اللہ کی رحمت انسان کو بغیر استحقاق کے ملتی ہے، اور غضب صرف ان کو ملتا ہے جو اس کا مستحق ہو۔ اس حدیث قدسی میں اہلِ ایمان کے لیے بہت بڑی امید کا سامان ہے۔ کیوں کہ جب اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے تو بندہ یہ امید کر سکتا ہے کہ اس کو اللہ کی مغفرت بلا استحقاق بھی مل سکتی ہے۔ یہ پہلو ایک مومن کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اس حدیث قدسی کے حوالے سے اللہ سے مغفرت کی ایسی دعا کرے، جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke) کرنے والی ہو۔ غضب کی حد ہو سکتی ہے، لیکن رحمت کی کوئی حد نہیں۔ کوئی شخص اللہ سے غضب نہیں مانگے گا، مگر رحمت ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی اللہ سے مانگ سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page