عمومی تائید کا دور
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۲
عمومی تائید کا دور
اسلام کی دعوت، توحید کی دعوت تھی۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک عالمی دعوت تھی۔ اس حقیقت کو قرآن میں عالمی انذار (الفرقان: 1) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مگر قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک دعوت توحید کا مشن عمومی مخالفت کے ماحول میں کرنا پڑا۔ اس بنا پر اس مشن کو مطلوب نشانے کے مطابق کرنا بے حد مشکل ہو گیا۔ آخر کار اللہ کو یہ مطلوب ہوا کہ اس منفی صورت حال کو ختم کیا جائے۔ تاکہ دعوت توحید کا مطلوب عمل کسی رکاوٹ کے بغیر انجام پاسکے۔ اس موافق صورت حال کو ظہور میں لانے کے لیے اللہ نے تاریخ میں ایک انقلابی عمل جاری کیا۔ یہ عمل ساتویں صدی میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ شروع ہوا، اور بیسویں صدی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اب اہل ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ ان پیدا شدہ مواقع (opportunities) کو دعوت توحید کے لیے منصوبہ بند انداز میں پرامن طور پر استعمال کریں۔ اس عمل کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌ حَمِيمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
قرآن کی اس آیت میں اس حقیقت کو انفرادی امکان کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یعنی عداوت کوئی مستقل حالت نہیں۔ انفرادی سطح پر تم آج بھی اس کا تجربہ کر سکتے ہو کہ ایک شخص جو بظاہر تم کو اپنا مخالف نظر آتا ہو، اس سے یک طرفہ (unilateral) حسن سلوک کرو تو عین ممکن ہے کہ وہ تمھارا دوست بن جائے۔ اس قسم کا تجربہ اسلام کے دور اول میں بار بار پیش آیا۔ یعنی دعوت یا حسن سلوک کے نتیجے میں کل کا دشمن آج کا دوست بن گیا۔ مثلاً عمر ابن الخطاب، اور ہندہ زوجہ ابوسفیان، وغیرہ۔ لیکن اتنا ہی کافی نہ تھا۔ اسی کے ساتھ ضرورت تھی کہ اس کلچر کو دنیا میں عمومی سطح پر لایا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues