قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴۰
یری السیف یعنی كان يرى الخروج بالسيف على أئمة الجور وهذا مذهب للسلف قدیم لکن استقر الأمر على ترك ذلك لما رأوه قد أفضی إلى أشد منه ففي وقعة الحرة ووقعة بن الأشعث وغيرهما عظة لمن تدبر (تهذیب التهذيب لابن حجر العسقلانی، باب الحسن بن صالح (516)، دائرۃ المعارف النظامية، الهند، الطبعة الأولى، 1326ھ، 2/285)۔ یعنی حسن بن صالح ظالم حکمراںوں کے خلاف مسلح بغاوت کو درست سمجھتے تھے۔ یہ سلف کا قدیم مذہب ہے۔ لیکن بعد میں اس معاملے میں یہ رائے طے پائی کہ ایسا نہ کیا جائے۔ کیوں کہ علماء نے یہ دیکھا کہ مسلح بغاوت کا طریقہ پہلے سے زیادہ شدید حالات کا سبب بن گیا۔ چناں چہ حرہ اور ابن الاشعث وغیرہ، کے واقعے میں غور کرنے والوں کے لیے نصیحت کا بڑا سامان ہے۔
قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج کی ممانعت کے بارے میں بہت سی حدیثیں موجود ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، عرب عالم عبدالرحمان بن معلا اللويحق کی کتاب الغلو فی الدین کا چیپٹر الخروج على الحكام (بیروت، 1992)۔ صريح ممانعت کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ کچھ علماء نے قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کو جائز قرار دے دیا۔ ان علماء میں امام ابو حنیفہ بھی شامل ہیں۔ ابوبکر الجصاص نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: وكان مذهبه (يعني أبا حنيفة) مشهورا في قتال الظلمة وأئمة الجور (احکام القرآن للجصاص، بيروت، 1405ھ، سورة البقرة: 124)۔ یعنی ابو حنیفہ کا یہ مسلک مشہور ہے کہ وہ ظالم حکمران اور ائمہ جور کے خلاف خروج کو جائز سمجھتے تھے۔ ابو حنیفہ اور دوسرے علماء کے اس مسلک کو کچھ لوگوں نے اجتہادی خطا قرار دیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں صریح طور پر ظلم پر صرف صبر کا حکم دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے دور میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کے جسموں میں شیطان جیسا دل ہوگا۔ اس پر صحابی حذیفہ بن یمان نے سوال کیا، اے اللہ کے رسول، اس وقت میں کیا کروں۔ آپ نے فرمایا: تسمع و تطیع للأمیر، وإن ضرب ظهرك، وأخذ مالك، فاسمع وأطع (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1847)۔ یعنی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues