Al-Risala · October 2017 · page 23

اجتہاد کیا ہے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۳

نہیں لڑتے۔ جب کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة۔ عبداللہ بن عمر نے جواب دیا کہ جو کام کرنا تھا وہ ہم نے کر دیا، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا (قد فعلنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ كان الإسلام قليلا، فكان الرجل يفتن في دينه إما يقتلونه وإما يوثقونه، حتى كثر الإسلام فلم تكن فتنة)۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4650۔ عبداللہ بن عمر کا یہ قول میرے نزدیک کلیاتی امور میں اجتہاد کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابی رسول نے اپنی مجتہدانہ بصیرت سے سمجھا کہ مذکورہ آیت میں جو حکم دیا گیا وہ قتال برائے استیصال فتنہ تھا، نہ کہ قتال برائے قتال۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب فتنہ ختم ہو گیا تو قتال بھی ختم ہو گیا۔ اب وہ محنت ان مواقع دعوت کو استعمال کرنے کے لیے کی جائے گی جو کہ فتنہ کے خاتمہ کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔

عبداللہ بن عمر کے اس قول کی مزید تفصیل عمر بن عبدالعزیز کے ایک قول سے معلوم ہوتی ہے۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز مدینہ میں عبداللہ بن عمر کی وفات سے 12 سال پہلے 61 ھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں خراسان کے گورنر الجراح بن عبداللہ الحکمی کو لکھا تھا : إن الله إنما بعث محمدا صلى الله عليه وسلم داعيا، ولم يبعثه جابيا (اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف داعی بنا کر بھیجا تھا، اللہ نے آپ کو ٹیکس وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا)۔ البدایہ والنہایہ 9/213۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن دعوت تھا، وہ قتال کے لئے یا زمین پر قبضہ کر کے اُس پر حکومت قائم کرنے کے لئے نہیں بھیجے گئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے دعوت کے راستہ کی رکاوٹیں ختم کر دیں تو اس کے بعد آپ کا اور آپ کے اصحاب کا کام یہ ہو گیا کہ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچائیں۔

یہ اجتہاد کی وہ مثالیں ہیں جو ایک جلیل القدر صحابی اور ایک جلیل القدر تابعی نے دور اول میں قائم کیں۔ مگر اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کی تاریخ میں ان کا یہ اجتہاد عملاً رائج نہ ہو سکا۔ مسلمانوں کی بعد کی نسلیں بدستور جنگ و قتال میں مشغول رہیں، اور آج تک مشغول ہیں۔ وہ حقیقی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues

Printed page