Al-Risala · October 2017 · page 24

اجتہاد کیا ہے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۴

طور پر دعوت کے میدان میں سرگرم نہ ہو سکیں۔ اگرچہ بعد کی صدیوں میں بھی اسلام مسلسل پھیلتا رہا ہے۔ مگر وہ زیادہ تر اپنی فطری کشش کے زور پر پھیلا ہے، نہ کہ داعیوں اور مبلغوں کی کسی منظم کوشش کے زور پر۔

اصل یہ ہے کہ ضرورت تھی کہ صحابی اور تابعی کے مذکورہ قول کی بنیاد پر ایک مکمل نظریہ تشکیل دیا جائے۔ اس کو ایک آئیڈیالاجیکل سسٹم کے طور پر جامع انداز میں مرتب کیا جائے۔ مگر بعد کے مسلم علماء یہ کام نہ کر سکے۔ اور بعد کے لوگوں کی یہی کوتاہی اس کا سبب بن گئی کہ بعد کی تاریخ کا سفر دعوت کے رخ پر جاری ہونے کے بجائے قتال کے رخ پر جاری ہو گیا جو بدستور آج تک قائم ہے۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لئے ایک متوازی مثال لیجئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: کما تکونون یولیٰ او يؤمر علیکم (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 577)۔ یعنی جیسے تم ہو گے، ویسے ہی تمہارے حکمراں ہوں گے۔ اس حدیث میں ایک عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ قدیم زمانہ میں سیاست کا مرکز بادشاہ ہوا کرتے تھے۔ اس قول میں اس جمہوری اصول کی طرف رہنمائی دی گئی جس میں سیاست کا مرکز عوام ہوں۔ قدیم سیاسی نظام کی بابت عربی میں یہ مقولہ تھا: الناس علی دین ملو کھم ۔ مذکورہ قول رسول میں اس مقولہ کو گویا بدل کر اس طرح کر دیا گیا: الملوک علی دین الناس۔

اس معاملہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ تاریخ کو بادشاہ رُخی ہونے کے بجائے عوام رُخی ہونا چاہیے۔ قدیم زمانہ میں تاریخ بادشاہ نامہ ہوا کرتی تھی۔ بادشاہوں کے واقعات کو قلمبند کرنے کا نام تاریخ تھا۔ مذکورہ قول رسول میں یہ رہنمائی تھی کہ تاریخ کو وسیع تر معنوں میں پوری انسانیت کے احوال پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ صرف حاکم کے احوال پر۔ قول رسول میں مذکورہ اشاراتی رہنمائی کے باوجود بعد کی کئی صدیوں تک تاریخ نویسی کا یہ طریقہ عملاً جاری نہ ہو سکا۔ حتیٰ کہ اُس دور میں اسلام کی جو تاریخیں لکھی گئیں وہ بھی قدیم طریقہ کے مطابق، زیادہ تر سیاسی احوال تک محدود رہیں۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ مذکورہ مجتہدانہ اصول کی بنیاد پر تاریخ نویسی کا ایک مکمل فلسفہ تیار نہ کیا جا سکا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues

Printed page