اجتہاد کیا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۵
یہ کام پہلی بار ابن خلدون (وفات 808ھ) نے کیا۔ ابن خلدون نے اپنے مشہور مقدمہ میں تاریخ نویسی کے جدید اصول کو ایک مکمل فلسفہ کی شکل میں مرتب کیا۔ اس کی یہ کتاب اتنی اہم تھی کہ دنیا کی تمام بڑی بڑی زبانوں میں اس کے ترجمے کیے گئے۔ اس کتاب نے عالمی ذہن پر زبردست اثر ڈالا۔ یہاں تک کہ اس کے بعد تاریخ نویسی کا قدیم اسلوب ختم ہو گیا اور جدید اسلوب ساری دنیا میں رائج ہوا۔ ابن خلدون نے جس طرح تاریخ نویسی کے معاملہ میں مذکورہ قولِ رسول کو ایک جامع نظام فکر کی صورت میں مرتب کیا۔ ضرورت تھی کہ اُسی طرح دعوت کے معاملہ کو بھی ایک جامع نظام فکر کی صورت میں مرتب کیا جائے۔ مگر اس کام کے لئے اجتہاد کلی کی صلاحیت درکار تھی، جب کہ ہمارے علماء اجتہاد کو جزئی مسائل تک محدود کیے ہوئے تھے۔ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ دعوت کی بنیاد پر جامع نظام فکر تشکیل نہ دیا جاسکا۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا جو فکر ہے، اس کی ایک نمائندگی الاخوان المسلمون کے ذریعہ ہوتی ہے۔ الاخوان المسلمون 1920 میں مصر میں قائم کی گئی۔ اس کے ابتدائی لیڈر حسن البناء اور سید قطب، وغیرہ تھے۔ اس کو غیر معمولی پھیلاؤ حاصل ہوا۔ الاخوان المسلمون نے اپنے عقیدہ وعمل کے لیے جو نعرہ اختیار کیا وہ یہ تھا: الإسلام ديننا والجهاد منہ جنا (اسلام ہمارا دین ہے اور جہاد ہمارا طریق عمل ہے) لیکن مجتہدانہ بصیرت کے ساتھ حالات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس وقت اخوانی لیڈروں کو یہ جاننا چاہیے تھا کہ ان کے لئے زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز طریقہ وہ ہے جو مبنی بر امن ہو، نہ کہ مبنی بر تشدد۔ اس لحاظ سے زیادہ صحیح بات یہ تھی کہ وہ یہ اعلان کریں : الإسلام ديننا والدعوة منہ جنا (اسلام ہمارا دین ہے اور دعوت ہمارا طریق عمل ہے)۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ مگر ان کی تمام قربانیاں حبطِ اعمال کا شکار ہو گئیں۔ ان کا وہ حال ہوا جس کو ایک اسرائیلی پیغمبر نے ان الفاظ میں بتایا تھا: تم نے بہت سا بویا پر تھوڑا کاٹا۔ تم کھاتے ہو پر آسودہ نہیں ہوتے۔ تم پیتے ہو پر پیاس نہیں بجھتی۔ تم کپڑے پہنتے ہو پر گرم نہیں ہوتے اور مزدور اپنی مزدوری سوراخ دار تھیلی میں جمع کرتا ہے۔ (بائبل، حجی، 1:6)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues