اسلام امن ورحمت کا مذہب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۶
اسلام امن ورحمت کا مذہب
موجودہ زمانہ میں مسلم دنیا میں ایک گروہ ابھرا ہے جس کو مجاہد یا مجاہدین کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ان کو مسلم ہیرو کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان مجاہدین کا تعلق نہ جہاد سے ہے اور نہ اسلام سے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا: المجاهد من جاهد نفسه في طاعة الله (مسند احمد، حدیث نمبر 23967)۔ یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی فرمانبرداری کے لیے خود اپنے نفس سے جہاد کرے۔ مگر یہ مجاہد لوگ بالکل الٹا کر رہے ہیں۔ وہ دوسروں کے خلاف تشدد کی کارروائی کرتے ہیں یہاں تک کہ جہاں انہیں کھلے طور پر تشدد کا موقع نہیں ملتا وہاں وہ خودکش بمباری کر کے دوسروں کو ہلاک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ نام نہاد مجاہد سڑکوں اور راستوں پر landmine بچھا دیتے ہیں اور جب گزرنے والے وہاں سے گزرتے ہیں تو اچانک دھماکہ ہوتا ہے جس میں کتنے ہی مسافر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ وہ جلسہ گاہ اور تھیٹر ہال میں بم مار کر لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ وہ بے قصور لوگوں کو یرغمال بنا کر سینکڑوں خاندانوں کو سوگوار کر دیتے ہیں۔ وہ بے قصور لوگوں کو مارنے میں یہاں تک جری ہوتے ہیں کہ اس معاملہ میں وہ مسلمان اور غیر مسلمان کا فرق بھی نہیں کرتے۔ وہ کسی آبادی یا کسی مجمع یا بلڈنگ میں دھماکہ کر کے ہزاروں لوگوں کو بے قصور مارڈالتے ہیں۔ یہ لوگ اتنے نادان ہیں کہ اس قسم کا دھماکہ کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس سے خدا کو خوش کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ اپنے اس فعل سے صرف شیطان کو خوش کر رہے ہوتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق، جنگ یا تشدد کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے۔ کسی بھی شخص یا گروہ کے لیے ہر گز جائز نہیں کہ وہ بطور خود ایک نظریہ بنائے اور اُس خود ساختہ نظریہ کی بنیاد پر اپنے آپ کو درست سمجھتے ہوئے کسی کے خلاف تشدد شروع کر دے۔ اسلام میں جنگ اور تشدد کے لیے بہت شدید قسم کی شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ مثلاً جارحیت کے خلاف ایک جائز جنگ میں بھی صرف مقاتل (combatant) پر حملہ کیا جا سکتا ہے، غیر مقاتل
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues