Al-Risala · October 2017 · page 27

اسلام امن ورحمت کا مذہب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۷

(non-combatant) پر حملہ کرنا کسی بھی عذر کی بنا پر جائز نہیں (البقرۃ: 190)۔ کسی انسان کو قتل کرنا اسلام کے نزدیک انتہائی حد تک ناروا فعل ہے۔

یہاں اس سلسلہ میں قرآن کی دو آیتیں نقل کی جاتی ہیں جس سے اس معاملہ کی شدت کا اندازہ ہوگا۔ پہلی آیت کا تعلق عام انسان سے ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے : اسی سبب ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ (5:32)۔

دوسری آیت مومن کے قتل کے بارے میں ہے۔ اُس کا ترجمہ یہ ہے : اور جو شخص کسی مسلمان کو جان کر قتل کرے تو اُس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اُس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اللہ نے اُس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (4:93)۔ قرآن کی یہ دو آیتیں وہ ہیں جن میں قتل کی بُرائی کو بیان کیا گیا ہے۔ جہاں تک قتل سے کم درجہ کے تشدد کی بات ہے، وہ بھی اسلام میں اتنا زیادہ نا محمود ہے کہ جو لوگ اُس میں ملوث ہوں اور اُس سے توبہ نہ کریں تو اُن کا ایمان اور اسلام ہی مشتبہ ہو جائے گا۔

اس سلسلہ میں ایک حدیث رسول یہاں نقل کی جاتی ہے۔ اُس کا ترجمہ یہ ہے: خدا کی قسم، وہ مومن نہیں ہے۔ خدا کی قسم، وہ مومن نہیں ہے۔ خدا کی قسم، وہ مومن نہیں ہے، جس کی بری حرکتوں سے اُس کا پڑوسی امن میں نہ ہو (مسند احمد، حدیث نمبر 27162)۔ خلاصہ یہ کہ اسلام میں صرف ایک ہی جنگ جائز ہے اور وہ کھلی جارحیت کے خلاف حکومت کے تحت دفاعی جنگ ہے۔ کوئی اور جنگ، مثلاً جارحانہ جنگ، بلاعنوان جنگ، کی اسلام میں اجازت نہیں۔ اس طرح وہ جنگیں بھی اسلام میں جائز نہیں ہیں جن کو پراکسی وار اور گوريلا وار کہا جاتا ہے۔ اسلام مکمل معنوں میں امن اور رحمت کا مذہب ہے۔ کسی کے خلاف تشدد کرنا اسلام میں قطعا جائز نہیں۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ ایک خود ساختہ عذر تراشے اور اُس کے نام پر لوگوں کے خلاف تشدد شروع کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues

Printed page