لائن آف ایکشن کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۸
لائن آف ایکشن کا مسئلہ
1947 میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کے بعد تمام مسلمانوں کے سامنے یہ سوال تھا کہ نئے ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے لائن آف ایکشن کیا ہے۔ اس وقت سے لے کر اب تک اس موضوع پر ہزاروں تحریریں سامنے آئیں اور ہزاروں جلسے کیے گئے۔ مگر آج بھی لوگ یہی پوچھتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے راہ عمل یا لائن آف ایکشن کیا ہونا چاہیے۔ میرے نزدیک یہ مسئلہ لائن آف ایکشن کی غیر موجودگی کا نہیں ہے، بلکہ لائن آف ایکشن کے موجود ہوتے ہوئے اس کو عملاً قبول نہ کرنے کا ہے۔ مسلمانوں کے سامنے بار بار مختلف جماعتوں اور رہنماؤں کی طرف سے اپنے اپنے انداز میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے مگر آج تک کسی بھی جواب کو مسلمانوں میں عمومی قبولیت کا درجہ حاصل نہ ہو سکا۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے 1948 میں لکھنؤ میں مشہور مسلم کنونشن کیا۔ اس موقع پر مولانا آزاد نے جو تقریر کی تھی، وہ آج بھی چھپی ہوئی موجود ہے۔ اپنی اس تقریر میں انہوں نے مسلمانان ہند کے سامنے یہ لائحہ عمل پیش کیا کہ وہ مسلم لیگ کو ختم کر دیں، اور نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کر لیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہندوستان کے مسلمان فرقہ وارانہ بنیاد پر اپنی ملی پالیسی نہ بنائیں، بلکہ اپنی پالیسی مشترک قومی بنیاد پر بنائیں۔ نمائندگی کے اعتبار سے لکھنؤ کا یہ آل انڈیا مسلم کنونشن نہایت کامیاب تھا۔ مگر اس کے بعد ایسا نہیں ہوا کہ مسلمان مولانا آزاد کے مشورہ کو اپنی ملی پالیسی کے طور پر اختیار کر لیں۔ ان کی ولولہ انگیز تقریر فضا میں تحلیل ہو کر رہ گئی۔
اسی طرح نہایت دھوم کے ساتھ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (1964) بنی۔ ملک کے تقریباً تمام مسلم رہنما اس کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو گئے۔ مگر اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے متفقہ طور پر ایک مسلم منشور تیار کر کے شائع کیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان اس ملک میں خیر امت کا کردار ادا کریں۔ مگر اس عنوان پر مسلمان عملاً متحرک نہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues