Al-Risala · February 2017 · page 22

قرآن فہمی

الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۲۲

قرآن فہمی

قرآن فہمی کے بارے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29) ۔ یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے ، تا کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔

قرآن کی اس آیت میں عقل والے سے مراد ڈگری والے (degree holders) نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن کو صرف وہی لوگ سمجھیں گے جو معروف معنوں میں اسکالر ہوں یا جنھوں نے تعلیمی اداروں سے ڈگری حاصل کی ہو۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ قرآن کو اس کے گہرے مفہوم کے اعتبار سے صرف وہ لوگ سمجھتے ہیں جو سنجیدہ ہوں، جو قرآن کی آیتوں پر غور کریں، اور جو اپنی خدا داد عقل کو استعمال کر کے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہی لوگ ہیں جو قرآن کے گہرے معانی تک پہنچیں گے ، اور قرآن کے پیغام کو سمجھ کر اس سے نصیحت حاصل کریں گے۔ قرآن فطرت کی زبان میں ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (29:49) ۔ یعنی بلکہ یہ کھلی ہوئی آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جن کو علم عطا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر سنجیدہ ہو، وہ اپنی عقل فطرت کو زندہ رکھے، وہ تعصب سے پاک ہو کر قرآن کی آیتوں پر غور کرے، اس کے اندر قبولیت (acceptance) کا مزاج ہو تو یقینا وہ قرآن کی روح تک پہنچ جائے گا، وہ قرآنی آیتوں کے گہرے معانی کو دریافت کرلے گا۔ قرآن کی ایک اور آیت میں تقویٰ کو علم کا ذریعہ (البقرۃ: 282) بتایا گیا ہے۔ یہاں متقی سے مراد وہ انسان ہے جو حقیقی معنوں میں سچائی کا متلاشی (seeker) ہو۔ جس کے ایمان نے اس کو نفسیاتی پیچیدگی سے پاک روح (complex-free soul) بنا دیا ہو۔ جس کے لیے سچائی ، اس کا سب سے بڑا کُنسرن (concern) بنا ہوا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues

Printed page