غصہ کیوں آتا ہے
الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۴۵
، شک نہیں کہ کسی انسان کے لیے دونوں ہی ضروری ہے۔
سوال ر سال کے ایک شمارہ میں آپ نے ایک صاحب کو نصیحت کہ تر ہو رہے کہا تھا الرسالہ کے ایک شمارہ میں ہے کہ آپ لے ایک صاحب کو نصیحت کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ایک آدمی آپ کی جاب لے سکتا ہے، مگر کوئی آپ کی تقدیر نہیں چھین سکتا۔ اس کی وضاحت نہ ایک طرف آپ کی جانب سے ملتا ہے، روحوں آپ کی نذر کرتے ہیں۔
فرمائیں۔ (ڈاکٹر روشن کمار، گجرات)
جواب
اس کا تعلق کسی کمینہ سے ہوتا ہے، کمینہ کو حق حاصل رہتا ہے کہ جاب کا تعلق کسی کمپنی سے ہوتا ہے۔ کمپنی کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے کسی کو جاب دے، اور جب چاہے کسی کی جاب ختم کردے۔ کمپنی کا یہ حق معاشیات کی دنیا میں ایک مُسلّم حق سمجھا جاتا ہے۔ اس معاملے میں ہر کمپنی کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ خود اپنی صوابدید کے مطابق جو چاہے فیصلہ کرے، اور جو فیصلہ نہ چاہے نہ کرے۔
لیکن تقدیر کا تعلق وسیع تر دنیا سے ہے۔ تقدیر کی دنیا خالق کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق تقدیر کی اس دنیا میں مواقع (opportunities) اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ فطرت کی دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص آپ سے ایک موقع چھین لے تب بھی وہاں دوسرے مواقع موجود رہتے ہیں۔ کوئی ادارہ اپنے دیے ہوئے موقع کو واپس لے سکتا ہے۔ لیکن فطرت کی دنیا میں جو مواقع ہیں ، ان کو منسوخ کرنا کسی شخص یا ادارے کے لیے ممکن نہیں۔ لیکن یہ دوسرے مواقع اپنے آپ کسی کو نہیں ملتے۔ جس طرح کوئی آدمی جب ایک موقع حاصل کرتا ہے تو وہ اس کو وقت ملتا ہے، جب کہ اس نے اپنے آپ کو اس کے حسب حال تیار کیا ہو۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ اگر ایک موقع اس سے چھن جائے تو وہ کسی دوسرے موقع کو دریافت کرے، اور اس کے مطابق اپنے آپ کو دوبارہ تیار کرے۔ جو آدمی ایسا کرے گا، اس کو کبھی کسی کمپنی یا رے، اور اس کے حامی، آپ کی، آپ کو، یا کسی ادارے سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔
ئی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues