ویسٹو فوبیا
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۶
اگر مسلم رہنما بروقت ڈی لنکنگ (delinking) کی حکمت کو اختیار کرتے، جیسا کہ اسلام کے دورِ اول میں پیغمبر اسلام نے کیا تھا۔ پیغمبر اسلام نے کعبہ کے اصنام اور ان کے لیے روزانہ اکٹھا ہونے والے زائرین (audience) کو ایک دوسرے سے الگ کیا تھا۔ اس طرح آپ نے ایسا دانش مندانہ طریقہ اختیار کیا، جو آخر کار فتح مبین (الفتح: 1) کا باب بن گیا۔ اگر وقت کے مسلم رہنما اس ڈی لنکنگ پالیسی کو اختیار کرتے تو مسلم امت عمومی نفرت کے فتنے سے بچ جاتی، اور مغربی تہذیب کے ذریعہ پیدا ہونے والے تائیدی مواقع کو بھر پور طور پراویل (avail) کر کے اس کارنامے کو انجام دیتی جس کو ایک برٹش مورخ ای ای کلیٹ (Ernest Edward Kellett) نے پیغمبر اسلام کی نسبت سے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ انھوں نے ناموافق حالات کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑ لیا :
He faced adversity with the determination to wring success out of failure.(A Short History of Religions by E.E. Kellet, pp. 331-32, Middlesex)
ویسٹو فوبیا
نفرت مغرب کے اس عمومی فتنے کو اگر ایک نیا نام دیا جائے تو وہ شاید ویسٹو فوبیا (westophobia) ہوگا۔ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا سب سے زیادہ عام مائنڈ سیٹ (mindset) ہے۔ یعنی مغربی قوموں کو اپنا دشمن سمجھنا، اور ان سے نفرت کرنا۔ نفرت مغرب کا یہ مزاج ابتداء اَنو آبادیات (colonialism) کے پس منظر میں پیدا ہوا۔ پھر وہ بڑھتے بڑھتے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا عام مزاج بن گیا ۔ حتی کہ آج مسلم قوم کا مطلب یہ بن گیا کہ اپنے سوا دوسری تمام قوموں سے نفرت کرنا ۔ مسلمانوں کے درمیان اس نفرت کلچر (culture of hate) کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔
انیسویں صدی اور بیسویں صدی کا زمانہ وہ زمانہ ہے جب کہ اللہ نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ مغربی قوموں نے وہ رول ادا کیا، جس کو حدیث میں تائید دین کہا گیا ہے (المعجم الکبیر للطبرانی،
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues