راستہ بدلنا
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۳
آپ کی ہجرت مزید ٹکراؤ کے لیے نہیں تھی۔ مگر قدیم مکہ کے قریش خاموش نہیں ہوئے۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ یک طرفہ طور پر آپ کے خلاف اقدام کر کے آپ کے مشن کا کلی طور پر خاتمہ کر دیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے مکہ کے تمام قبائل کی مدد سے ایک بڑا منصوبہ بنایا، تا کہ وہ پیغمبر اسلام کے مشن کو جڑ سے ختم کر سکیں۔ پھر ایک ہزار مسلح افراد کے ساتھ مکہ سے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔
اس کے بعد راستہ میں بدر کے مقام پر 2 ہجری میں دونوں فریقین کے درمیان مڈبھیڑ ہوئی۔ اس وقت اہل ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی، اور ان کے ہاتھ تقریباً 70 مشرکین قید ہو گئے۔ ان کی رہائی کا یہ فدیہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے بچوں کو لکھنا سکھا دیں (فداء هم أن يعلموا أولاد الأنصار الكتابة) مسند احمد، حدیث نمبر 2216۔
بدر میں قید کیے ہوئے مکہ کے یہ لوگ جنگی اصطلاح میں جنگی قیدی ( prisoners of war) تھے۔ اس زمانے کے عام رواج کے مطابق پیغمبر اسلام یہ کر سکتے تھے کہ ان کو قتل کروا دیتے۔ لیکن آپ نے انتقام سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ اس طرح آپ کے لیے ممکن ہوا کہ یہاں اپنے ایک مائنس (minus) کو پلس (plus) میں بدل دیں۔ جو لوگ بظاہر آپ کے دشمن تھے، ان کو اپنے معاون کے طور پر استعمال کیا۔ یعنی دشمن کو اپنے بچوں کے لیے ٹیچر کے طور پر استعمال کیا۔ آپ کی اس پالیسی کے تحت مدینہ میں پہلا اسکول قائم ہوا، جس کے ٹیچر سب کے سب آپ کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔
راستہ بدلنا
اسی طرح کا ایک اور واقعہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر میں تھے۔ آپ کو یہ خبر ملی کہ راستے میں دوسری طرف سے مکہ کے خالد بن الولید آپ سے مقابلہ کرنے کے ارادے سے ایک مسلح دستہ لے کر آ رہے ہیں۔ اس وقت آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم میں سے کون ہے جو مجھے خالد کے راستے کے سوا کوئی اور راستے سے لے جائے (من رجل يخرج بنا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues