انجام کو دیکھنا
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۴
على طريق غير طريقهم التي هم بها)۔ سیرت ابن ہشام، ایک آدمی نے کہا کہ میں۔ چناں چہ آپ نے اس وقت اپنے سفر کا راستہ بدل دیا۔ اس کی وجہ سے آپ کے ساتھیوں اور خالد کے ساتھیوں میں مڈبھیڑ نہیں ہوئی۔
یہ اسی پیغمبرانہ حکمت کی ایک مثال ہے۔ عام طریقے کے مطابق آپ کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر اسی راستے پر آگے بڑھیں، اور خالد سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کریں۔ مگر آپ نے اس معاملے میں ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا، اور اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طریقہ کو ایک لفظ میں پَریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کہہ سکتے ہیں۔ آپ کی زندگی کے واقعات کہتے ہیں کہ آپ نے ہمیشہ ایسا کیا کہ آپ نے آندیل وزڈم کو چھوڑا، اور پَریکٹکل وزڈم کو اختیار کیا۔ آپ کو اپنے مشن میں جو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی، اس کا سبب یقینی طور پر یہی پَریکٹکل وزڈم ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ آندیِل وزڈم نتیجہ کی اعتبار سے بے فائدہ ٹکراؤ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس، پریکٹکل وزڈم غیر ضروری نقصان سے بچا کر کامیابی کی منزل تک پہنچادیتی ہے۔ پیغمبر اسلام کا طریقہ آپ کی پوری زندگی میں اسی وزڈم کے مطابق تھا۔ آپ ہمیشہ ہر معاملے میں پَریکٹکل وزڈم پر چلے، اور یہی آپ کی اعلیٰ کامیابی کا راز تھا۔
انجام کو دیکھنا
پیغمبر اسلام کا یہی حکیمانہ طریقہ آپ کے پورے تیرہ سالہ مکی دور میں جاری رہا۔ اس معاملے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ آپ کی نبوت کے انیسویں سال طویل گفت و شنید کے بعد قدیم مکہ کے لیڈروں کے ساتھ یہ طے ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان دَس سال کے لیے امن کا معاہدہ (treaty of peace) ہوجائے۔ حدیبیہ کے مقام پر یہ گفت و شنید ہورہی تھی ۔ جب معاہدہ لکھنے کا وقت آیا تو آپ نے اس معاہدہ کے آغاز میں لکھوایا: اے علی لکھو، بسم اللہ الرحمن الرحیم، تو مکہ کے نمائندہ لیڈر سہیل بن عمرونے کہا، ہم اس کو نہیں جانتے، آپ لکھیں، باسمک اللہم، آپ نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپ نے کہا، لکھو یہ وہ (دفعات) ہیں، جن پر محمد رسول اللہ نے سہیل بن عمرو سے صلح کی۔ تو سہیل بن عمرو
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues