Al-Risala · January 2018 · page 15

وقار کا مسئلہ نہ بنانا

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۵

نے دوبارہ کہا، اگر میں مانتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو میں آپ سے جنگ نہیں کرتا، یعنی آپ "رسول اللہ" کا لفظ مٹائیں، آپ نے ایسا ہی کیا، اور کہا لکھو، یہ وہ دفعات ہیں، جن پر محمد بن عبد اللہ نے سہیل بن عمرو سے صلح کی کہ دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، اس میں لوگ امن سے رہیں گے (مسند احمد، حدیث نمبر 18910)۔

اس معاہدہ کے معاملے میں متعلق پہلو یہ تھا کہ کسی بھی طریقے سے دونوں فریق کے درمیان امن قائم ہوجائے۔ اس معاملے میں یہ غیر متعلق پہلو تھا کہ معاہدہ میں کس قسم کے الفاظ لکھے جائیں۔ چناں چہ رسول اللہ نے یہ حکیمانہ طریقہ اختیار کیا کہ متعلق پہلو کو لیا، اور غیر متعلق پہلو کو نظر انداز کر دیا۔ اس طرح یہ معاہدہ امن کسی مزید رکاوٹ کے بغیر معتدل طور پر عمل میں آگیا۔

وقار کا مسئلہ نہ بنانا

قرآن میں اہل حکمت انسانوں کی صفت بتائی گئی ہے کہ وہ کسی مسئلہ کو وقار کا مسئلہ نہیں بناتے ہیں۔ قرآن کی وہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب کہ حدیبیہ کا معاہدہ طے ہورہا تھا۔ اس وقت اصحاب رسول کا حال کیا تھا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (48:26)۔ یعنی جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی، جاہلیت کی حمیت، پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر، اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

جب کسی اختلافی معاملہ میں دو گروہوں کے درمیان بات ہورہی ہو تو عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جو فریق قومی حمیت میں مبتلا ہو، وہ چیزوں کو وقار کا مسئلہ (prestige issue) بنا لیتا ہے۔ اس بنا پر ایسے موقع پر پرامن معاہدہ عملاً سخت مشکل بن جاتا ہے۔ ایسے موقع پر دانش مند گروہ وہ ہے جو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page