اہل ایمان، اہل تائید
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۳۷
کائنات کی مادی اکائی ہے۔ ایٹم نہ کوئی جاندار چیز ہے، اور نہ اس کے اندر کوئی فوق الفطری طاقت موجود ہے۔ مثال کے طور انسان قدیم زمانے سے چاند کی پرستش کرتا تھا، کیوں کہ اس نے اس کو خدا کا درجہ دے رکھا تھا۔ سائنس نے پہلے یہ ثابت کیا کہ چاند کوئی روشن کرہ نہیں، بلکہ وہ غیر روشن پتھروں کا ملبہ ہے۔ اس کی روشنی سورج کی روشنی کا ریفلیکشن ہے۔ یہ نظریہ 20 جولائی 1969 کو آخری طور پر بے بنیاد ثابت ہو گیا، جب کہ امریکی اسٹرانومنیل آرم اسٹرانگ (2012-1930) خلائی سفر کر کے چاند کی سطح پر پہنچا، اور اس پر اپنا قدم رکھ دیا۔
20 جولائی 1969 کی رات کو راقم الحروف کو کسی وجہ سے ایک اخبار کے دفتر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس وقت خبریں آ رہی تھیں کہ کس طرح انسان چاند کی سطح پر پہنچ گیا۔ میری ملاقات ایک نیوز ایڈیٹر سے ہوئی ۔ انھوں نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے نہایت جوش کے ساتھ کہا کہ تھرلنگ خبریں آ رہی ہیں۔ میرے دماغ میں آیا کہ یہ تھرلنگ خبریں نہیں ہیں، بلکہ ایک عجیب حقیقت کے اعلان کی خبریں ہیں، وہ یہ کہ چاند کوئی دیوتا نہیں ہے، بلکہ وہ ایک بے جان مادہ ہے۔ یہ دراصل چاند کا خالق ہے جو چاند کو اپنے کنٹرول میں لیے ہوئے ہے۔ آج شرک کا عقیدہ اصولی اعتبار سے آخری طور پر باطل ہو کر رہ گیا ہے۔
اہل ایمان، اہل تائید
پیغمبر اسلام کو اللہ نے اپنا آخری نبی (الاحزاب: 40) بنا کر بھیجا۔ نبی کی حیثیت سے آپ دنیا میں 23 سال رہے۔ آپ آخری نبی تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پر نبیوں کی فہرست ختم ہو گئی، لیکن آپ کی پیغمبرانہ رہنمائی قیامت تک جاری رہے گی۔ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ تھا۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ آپ کے بعد ایک ایسا عمل (process) جاری ہو، جو پوری تاریخ انسانی کے لیے رہنمائی کا کام کرتا رہے۔
پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی تبلیغ کے تحت آپ کے اصحاب کی جماعت (ٹیم) بنی۔ پھر یہ مقدر کر دیا گیا کہ اصحاب رسول کے بعد متبعین رسول ہر دور میں پیدا ہوں، اور وہ پیغمبر کی رہنمائی کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues