اہل ایمان، اہل تائید
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۳۸
ہمیشہ تاریخ کے ہر دور میں جاری رکھیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اہل ایمان کہا جاتا ہے۔ یہ کام بلاشبہ تاریخ کا سب سے بڑا کام تھا۔ اہل ایمان شاید اس کام کو تنہا انجام نہیں دے سکتے تھے۔ اس لیے اللہ نے ان کے ساتھ اہل تائید کا گروہ کھڑا کر دیا۔ یہ گروہ ہر دور میں اپنا تائیدی رول ادا کرتا رہا ہے۔ لیکن بعد کے زمانہ میں تائید کا یہ کام بہت زیادہ بڑا بننے والا تھا۔ تائید کا یہ کام در حقیقت اہل ایمان کو مادی بنیاد فراہم کرنے کے ہم معنی تھا۔ اہل ایمان شاید اپنی آخرت پسندی کی بنا پر اس مادی بنیاد کو بطور خود بنانے کے قابل نہ تھے۔ اس لیے بعد کے دور میں تائید کے اس کام کے لیے زیادہ بڑے درجے کا اہتمام کیا گیا۔ اہل ایمان کے لیے دوسروں کی طرف سے یہی تائید کا معاملہ تھا، جس کو پیغمبر نے پیشگی طور پر بتا دیا تھا۔ پیشین گوئی کی یہ روایات حدیث کی اکثر کتابوں میں مستند طور پر موجود ہیں۔
اہل ایمان کے لیے دوسروں کی تائید کا یہ معاملہ اتنا اہم تھا کہ اس کو یقینی بنانے کے لیے اللہ نے پوری تاریخ کو پیچ (manage) کیا۔ 12 ویں اور 13 ویں صدی میں جو صلیبی جنگیں ہوئیں، ان میں مسلم سلطنتیں اور مسیحی سلطنتیں بہت بڑے پیمانے پر ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ اس ٹکراؤ میں مسیحی قوموں کو اتنی بڑی شکست ہوئی کہ ان کے لیے جنگ کا آپشن ہی ختم ہو گیا۔ اس طرح حالات کے دباؤ نے یورپ کی مسیحی قوموں کو جنگ کے میدان سے ہٹا کر سائنسی تحقیق کے میدان کی طرف موڑ دیا۔ اس طرح اہل مغرب کے درمیان فطرت (nature) کی دریافت کا کام بڑے پیمانے پر شروع ہوا۔ یہ کئی سو سال تک برابر جاری رہا۔ یہاں تک کہ اہل مغرب نے فطرت کے قوانین (laws of nature) کے ذریعہ اس جنگ کو امن کے میدان میں دوبارہ جیت لیا، جو اس سے پہلے وہ مسلح جنگ کے میدان میں ہار چکے تھے۔
قوانین فطرت کی دریافت کے میدان میں اہل مغرب مکمل طور پر کامیاب ہوئے۔ یہاں تک کہ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار ترقی کا نیا دور پیدا کر دیا، جس کو مغربی تہذیب ( western civilization) کہا جاتا ہے۔ اپنی ان کامیابیوں کے ذریعہ اہل مغرب فطری طور پر پوری دنیا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues