Al-Risala · January 2018 · page 16

شکایت کے بجائے تدبیر

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۶

چیزوں کو وقار کا مسئلہ نہ بنائے ۔ وہ اعلیٰ اخلاق کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ، یک طرفہ طور پر صلح اور امن کا طریقہ اختیار کرنے کے لیے راضی ہو جائے ۔ یہ لوگ دانش مند لوگ ہیں ، اور ایسے ہی لوگ اس کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے اس کی وہ بات ہے جو وہ مدت زندگی میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

شکایت کے بجائے تدبیر

پیغمبر اسلام کی زندگی کا ایک واقعہ یہ ہے کہ 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا۔ اس کے بعد آپ مکہ سے طائف کے لیے روانہ ہوئے۔ اس وقت آپ کے ساتھ تقریباً بارہ ہزار افراد تھے۔ درمیان میں ایک راستہ آیا، جس کو تنگ ہونے کی وجہ سے الضيقہ کہا جاتا تھا۔ آپ نے کہا: ما اسم هذا الطريق؟ فقيل له الضيقَة، فقال : بل هي اليسرى (سيرت ابن هشام، 2/482)۔ یعنی اس راستے کا نام کیا ہے، لوگوں نے کہا: ضيقَة (تنگ)۔ آپ نے کہا نہیں بلکہ یہ یسریٰ (آسان) ہے۔

اس کے بعد غالباً آپ نے ایسا کہا کہ اس وقت تم لوگ افقی دائرہ (horizontal way) میں پھیلے ہوئے ہو، تم ایسا کرو کہ عمودی طریقہ (vertical way) میں ہو جاؤ۔ یعنی قطار بنا کر گزرو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، اور نہایت آسانی سے وہ راستہ پار ہو گئے۔

یہ آپ کی پیغمبرانہ حکمت کی مثال ہے۔ یعنی جب کوئی مشکل کا سامنا پیش آئے تو شکایت کا طریقہ اختیار مت کرو، بلکہ تدبیر کا طریقہ اختیار کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو بہت جلد تم کو ایک تدبیر دریافت ہو جائے گی، اور تم اس تدبیر کو اختیار کر کے آسانی کے ساتھ اپنا راستہ طے کر لو گے۔ عام طور پر لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتے ہیں۔ یہ طریقہ وزڈم کے خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار ہیں ۔ یہ طریقہ درست اور پر اثر ہے۔ اس کی پرواہ نہ کیجئے کہ پیروں والوں سے لے۔ اس طرح مسئلہ کوئی مزید دشواری کے بغیر بآسانی حل ہو جائے گا۔ چین ری ایکشن سے بچنا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 8 ہجری میں مکہ فتح کیا۔ اس وقت آپ ن ا ع ل ا ن کہ وا اں برائے فروخت ہیں! “ اس المیہ کو برصغیر کی نئی نسل

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page