شہادتِ اعظم
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۴۹
مراد ایسے دلائل ہیں، جو دونوں فریقوں کے درمیان تسلیم شدہ ہوں۔ کیوں کہ وہ عالمی قانون فطرت سے مستنبط ہیں۔ اس مقصد کے لیے اللہ نے تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کیا ہے۔ وہ پراسس تھا، فطرت (nature) میں انکوائری کا عمل جاری کرنا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ صلیبی جنگوں کے بعد مغربی قوموں کو سائنسی دریافتوں کی طرف موڑ دیا۔ اس طرح تاریخ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ تقریباً پانچ سوسال کے عمل کے بعد انسان نے فطرت میں چھپی ہوئی حقیقتوں کو دریافت کیا۔ یہ دریافتیں مسلمہ سائنسی دریافتیں تھیں، جو ریاضیاتی اصولوں پر مبنی تھیں۔ اس بنا پر یہ دریافتیں ہر ایک کے لیے ناقابل انکار حقیقتیں بن گئیں۔
اس طرح تاریخ میں پہلی بار فطرت کی ایسی عالمی حقیقتیں دریافت ہوئیں، جو ہر انسان کے لیے ناقابل انکار بن گئیں۔ اس بنا پر پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ دو طرفہ مسلمات کی بنیاد پر لوگوں کو حق کا پیغام دیا جائے۔ اس طرح کی سائنسی دریافتوں کے نتیجے میں اب علمی اعتبار سے انسان کے لیے صرف توحید کا آپشن باقی رہا ہے۔ شرک یا انکارِ خدا کا آپشن اب انسان کے لیے موجود نہیں۔ موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے ہیومنزم (humanism) کے آپشن کا دعویٰ کیا ہے، جس کا مطلب ہے: The transfer of seat from God to man مگر یہ صرف ایک دعویٰ ہے، جس کے پیچھے کوئی علمی دلیل موجود نہیں۔ برٹش فلسفی جولین ہکسلے اسی قسم کے مدعیوں میں سے ایک ہے۔ اس نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے، جس کا ٹائٹل ہے:
Man Stands Alone by Julian Huxley (Harper, 1941, pp. 297)
اس کتاب کا موضوع اس کے ٹائٹل سے ظاہر ہے۔ اس کتاب کے جواب میں ایک امریکی سائنٹسٹ نے ایک مدلل کتاب تیار کر کے شائع کی۔ وہ کتاب یہ ہے:
Man Does Not Stand Alone by Abraham Cressy Morrison (Fleming H. Revell Company, 1944, pp. 107)
حقیقت یہ ہے کہ ماڈرن سائنس نے خالص دلیل کی سطح پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کائنات
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues