Al-Risala · March 2018 · page 50

شہادتِ اعظم

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۵۰

کا ایک خالق ہے، اور وہ اللہ رب العالمین ہے۔ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ سائنٹفک کمیونٹی اس معاملے میں فریق بننے کو تیار نہیں۔ سائنٹفک کمیونٹی اس معاملے میں ان ڈفرنٹ (indifferent) رہنا چاہتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ناسا کے ایک سائنسداں کو اس وجہ سے جاب سے نکال دیا گیا کہ وہ کائنات میں انٹیلیجنٹ ڈیزائن کو مانتا تھا۔ اس کا یہ ماننا تھا کہ زندگی اتنی پیچیدہ ہے کہ اس کو نظریہ ارتقا سے حل نہیں کیا جاسکتا:

Nasa of America sued by scientist 'sacked for belief in intelligent design': Life is too complex to have developed through evolution alone. (www.telegraph.co.uk. [accessed: 25.01.2018])

حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے بارے میں جو سائنٹفک دریافتیں ہوئی ہیں، انھوں نے حقیقت خداوندی کو اب ایک ثابت شدہ واقعہ بنا دیا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ کوئی ان حقائق کو لے کر کھڑا ہو۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ رول صرف اور صرف امت مسلمہ کے لیے مقدر ہے، جس کو قرآن میں امت وسط کہا گیا ہے (البقرۃ: 143)۔ مگر امت مسلمہ اس رول کو ادا کرنے میں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ مسلم کمیونٹی اپنے منفی نفسیات کی بنا پر اس مثبت رول کو ادا کرنے کے لیے نااہل ہوگئی ہے۔ امت مسلمہ کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ ہرقسم کی نفرت اور تشدد کی تمام سرگرمیوں کو یک طرفہ طور پر اور کلی طور پر ختم کردیں تا کہ وہ دنیا میں شہادتِ اعظم کے اس رول کو ادا کرنے کے اہل ہوجائیں، اور اس کے بدلے میں اللہ رب العالمین کے یہاں ابدی جنت کے مستحق قرار پائیں۔

☆☆☆☆☆

اسلام اصلاً ایک آئیڈیالوجی کا نام ہے۔ جب دلائل کی تائید اسلام کے حق میں ہو، تو اسلام کو غالب سمجھا جائے گا۔ دلائل کی یہ تائید پہلے بھی اسلام کے حق میں تھی، اور اب سائنسی حقائق کے ظہور کے بعد مزید اضافے کے ساتھ دلائل کی یہ تائید اسلام کو حاصل ہوچکی ہے۔ اب جو سوال ہے، وہ صرف مسلمانوں کی اپنی ذمے داری کا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page