Al-Risala · January 2018 · page 17

شکایت کے بجائے تدبیر

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۷

جو اپنے گھروں میں چلا جائے وہ امن میں ہے، جو ہتھیار ڈال دے وہ مامون ہے۔ اس کے بعد قدیم مکہ کے لوگ کعبہ کے صحن میں اکٹھا ہوئے۔ اس وقت آپ نے ان سے پوچھا، تم لوگ کیا کہتے ہو، اور تمھارا کیا گمان ہے۔ انھوں نے جواب دیا، ہم آپ کو اپنا بھتیجا اور اپنے چچا کا شریف اور مہربان بیٹا سمجھتے ہیں، آپ نے کہا، میں وہی کہتا ہوں جو یوسف نے کہا تھا: آج تم پر کوئی الزام نہیں، اللہ تم کو معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہر بان ہے (یوسف : 92)۔ تو وہ لوگ نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں، اور پھر وہ اسلام میں داخل ہو گئے (فخر جوا کأنما نشروا من القبور فدخلوا في الإسلام) السنن الکبری للبیہقی ، حدیث نمبر 18275۔

یہ وہ لوگ تھے، جنھوں نے پیغمبر اسلام کو اپنے وطن سے نکالا تھا، اور آپ کے خلاف بار بار لڑائیاں چھیڑیں تھیں۔ عام رواج کے مطابق، بلا شبہ وہ لوگ جنگی مجرم (prisoners of war) تھے ۔ لیکن جب پیغمبر اسلام نے ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ بلکہ ان کو پورے طور پر آزاد کر دیا ۔ یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ ایسا کر کے آپ نے قدیم مکہ کے ان لوگوں کو دوبارہ جوابی انتقام سے بچالیا۔ اگر آپ ایسا نہ کرتے تو قبائلی کلچر کے مطابق وہاں چین ری ایکشن (chain reaction) شروع ہو جاتا، جو پھر کبھی ختم نہ ہوتا۔ جیسا کہ قدیم زمانے میں عام طور پر ہوا کرتا تھا۔ حقوق طلبی کی سیاست نہیں سن 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا، اور پیغمبر اسلام کے ساتھی دوبارہ اپنے قدیم وطن مکہ میں داخل ہوئے۔ ہجرت کے بعد مکہ میں ایسا ہوا تھا کہ کچھ اصحاب کے گھر اور جائداد کو اہل مکہ نے قبضہ کر لیا تھا۔ اب کچھ اصحاب رسول چاہتے تھے کہ وہ اپنے گھر اور جائداد کو لوگوں کے قبضے سے نکالیں، اور اس پر دوبارہ اپنا قبضہ قائم کریں۔ مگر پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو اس کی اجازت نہ دی۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر ابو احمد بن جحش آپ کے پاس آئے ، اور کہا کہ ان کے آبائی گھر پر ابو سفیان نے قبضہ کر کے اس کو فروخت کر دیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے ان سے کہا: إن صبرت كان خیرا لك، وكانت لك بها دار في الجنة (اگر تم صبر کرو گے تو یہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page