رجز سے اعراض کرو
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۸
تمھارے لیے بہتر ہے۔ اور اس کے بدلے میں تمھارے لیے جنت کا ایک گھر ہے )۔ ابو احمد نے کہا: میں صبر کروں گا (أنا أصبر) چناں چہ انھوں نے اس کا خیال چھوڑ دیا (أخبار مكة و ما جاء فيها من الآثار للازرقی، 2/245)۔
اس طرح کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے طریقہ میں وہ طریقہ شامل نہیں جس کو حقوق طلبی کی سیاست کہا جاتا ہے۔ حقوق طلبی کی سیاست کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دو فریقوں کے درمیان ایسے جھگڑے کھڑے ہو جاتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اس قسم کی سیاست سے لوگوں کو ملتا تو کچھ بھی نہیں، لیکن وہ اس امکان کو کھودیتے ہیں کہ نئے مواقع کو استعمال کرکے اپنے لیے بڑی بڑی ترقیاں حاصل کریں۔
پیغمبر اسلام اگر مکہ میں فتح حاصل ہونے کے بعد وہاں حقوق طلبی کی سیاست چلاتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ لوگوں کی ترجیحات (priorities) بدل جاتیں۔ فتح مکہ کے بعد اب اصل کام یہ تھا کہ مکہ کے لوگوں میں توحید کی اشاعت کی جائے ۔ شرک کے دور کو ختم کرکے توحید کا دور لایا جائے۔ کعبہ کو اس کی ابراہیمی روایت پر قائم کیا جائے، جس کا عملاً خاتمہ ہو گیا تھا۔ اگر مکہ میں حقوق طلبی کی سیاست چلائی جاتی تو یہ سارے کام معطل ہوجاتے، اور وہ ٹارگٹ ہی بدل جاتا، جس کے لیے پیغمبر اسلام نے وہاں اپنا مشن جاری کیا تھا۔
رجز سے اعراض کرو
پیغمبر اسلام نے جب قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا تو قرآن میں آپ کو ایک نصیحت ان الفاظ میں کی گئی کہ اے پیغمبر لوگوں کو اللہ کی طرف بلاؤ، اور رجز کو چھوڑ دو (المدثر: 5)۔ رجز کا لفظی مطلب گندگی (dirt) ہے۔ یہ گندگی کون سی تھی، جسے آپ کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ اس کو یہاں لفظوں میں نہیں بتایا گیا ہے، اس لیے اس کا مطلب آپ کے عمل کو دیکھ کر متعین کرنا ہوگا۔ یعنی آپ نے اپنی عملی زندگی میں کس چیز کو چھوڑا۔ وہی وہ گندگی ہے جس سے آپ کو اعراض کرنے کا حکم دیا گیا۔ اب دیکھیے کہ آپ نے جب قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا تو آپ نے کس چیز سے اعراض
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues