اجتہاد کیا ہے
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۱۷
اجتہاد کیا ہے
اجتہاد کا لفظی مطلب ہے پوری کوشش کرنا (to strive)۔ اجتہاد کا لفظ حدیث کی دو روایتوں میں آیا ہے۔ ان دونوں حدیثوں میں اجتہاد کا مطلب ہے، کسی معاملہ میں امر شرعی معلوم کرنے کی کوشش کرنا۔ قرآن میں اس کے ہم معنی لفظ استنباط (النساء: 83) آیا ہے۔ اس کا مطلب ہے، نتیجہ اخذ کرنا (to infer)۔
اجتہاد یا استنباط کی کوئی لازمی شرط (condition) نہیں ہے۔ ہر آدمی اجتہاد اور استنباط کا عمل کر سکتا ہے۔ اس کی شرط صرف یہ ہے کہ کسی اجتہاد یا استنباط کو مطلق نہ سمجھا جائے، بلکہ اس کو نظر ثانی کا موضوع (subject to re-examination) سمجھا جائے۔ حدیث میں آیا ہے : إذا حكم الحاكم فاجتهد ثم أصاب فله أجران، وإذا حكم فاجتهد ثم أخطأ فله أجر ( صحیح البخاري، حدیث نمبر 7352)۔ یعنی جب کوئی حاکم فیصلہ دے اور وہ اجتہاد کرے اور اس کا وہ حکم درست ہو تو اس کو دوہرا اجر ملے گا اور اگر اس نے کوئی ایسا حکم دیا جس میں اس نے اجتہاد کیا لیکن وہ خطا کر گیا تو اس کو ایک اجر ملے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا اجتہاد مطلق اجتہاد نہیں ہے۔ ہر شخص کا اجتہاد نظر ثانی کا موضوع (subject to re-examination) ہے۔ اجتہاد کے حق ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد پر کسی کے اجتہاد کو جانچا نہیں جائے گا۔ بلکہ اس اعتبار سے جانچا جائے گا کہ بحث و تحقیق کے بعد اس کا اجتہاد درست ثابت ہوا ہے یا وہ ایک غلط اجتہادتھا۔ اجتہادی خطا پر ایک اجر کا وعدہ، یہ معنی رکھتا ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کسی حال میں بند نہیں۔ بلکہ جو دروازہ بند ہے، وہ صرف یہ کہ کسی کے اجتہاد کو تنقید سے بالاتر سمجھ لیا جائے، اور یہ عقیدہ بنا لیا جائے کہ فلاں شخص امام برحق یا مجتہد مطلق ہے، اور اس کے اجتہاد کو کسی مزید تحقیق کے بغیر تسلیم کرنا چاہیے ۔ گویا کہ خود اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہے، بلکہ نبی کے سوا کسی اور کو مطلق شارع سمجھنے کا دروازہ بند ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues