ہائی پروفائل کا طریقہ نہیں
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۹
کرتے ہوئے اپنا مشن جاری کیا۔ وہ چیزیں وہ تھیں جو اس وقت آپ کی حالت کے اعتبار سے نتیجہ خیز نہیں تھیں۔ مثلاً قدیم مکہ میں بہت سی برائیاں پھیلی ہوئی تھیں ۔ جیسے شراب، وغیرہ۔ اب اگر شروع میں لوگوں کو اس سے روکتے تو اس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہ تھا۔ اسی طرح قدیم مکہ میں کعبہ میں بہت سے بت رکھے ہوئے تھے۔ اگر آپ ان بتوں کو کعبہ سے نکالنے کی مہم چلاتے تو یقینی تھا کہ آپ کی مہم کامیاب نہ ہوتی۔ اس لیے آپ نے نتیجہ خیز اقدام اور بے نتیجہ اقدام میں فرق کیا، اور وقتی اعتبار سے بے نتیجہ کام میں اپنے آپ کو الجھائے بغیر اس کام میں محنت کی، جس میں محنت سے مفید نتیجہ نکلنے والا تھا۔ آپ کی یہ پالیسی حدیث میں اس طرح آئی ہے: إنما نزل أول ما نزل منه سورة من المفصل، فيها ذكر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شيء : لا تشربوا الخمر، لقالوا : لا ندع الخمر أبدا، ولو نزل: لا تزنوا، لقالوا: لا ندع الزنا أبدا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993)۔ یعنی پہلے جو چیز نازل ہوئی، وہ مفصل کی سورت تھی، جس میں جنت و دوزخ کا ذکر ہے۔ یہاں تک کہ جب لوگوں کا دل اسلام کی طرف رجوع ہو گیا، تب حلال وحرام کے احکام اترے، اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ شراب نہ پیو تو لوگ ضرور کہتے، ہم تو کبھی شراب پینا نہیں چھوڑیں گے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ ضرور کہتے کہ ہم تو زنا نہیں چھوڑیں گے۔
اس طریق عمل کو ایک لفظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکیمانہ ترتیب کے ساتھ کام کرنا۔ جو کام انجام کے اعتبار سے ممکن ہو، اس کو کرنا، اور جس کام میں بروقت نتیجہ نکلنے والا نہ ہو، اس کو مستقبل پر چھوڑ دینا— یہی پیغمبر کا طریقہ ہے، اور یہی دانش مندی کا طریقہ۔
ہائی پروفائل کا طریقہ نہیں
پیغمبر اسلام نے جب مکہ میں اپنا مشن شروع کیا تو تین سال تک آپ نے اس کا عام اعلان نہیں کیا۔ بلکہ صرف کچھ افراد سے خصوصی ملاقاتوں میں اپنی بات کہتے تھے۔ یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد آپ نے اعلان عام کیا (سیرۃ ابن ہشام، 1/262)۔ اسی طرح غزوہ خیبر میں آپ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues