Al-Risala · January 2018 · page 20

فتنہ کو نہ بھڑکانا

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۰

اپنے اصحاب کے ساتھ جا رہے تھے، تو لوگوں نے ایک جگہ نعرہ بلند کرنا شروع کر دیا۔ تو آپ نے کہا: إنكم لا تدعون أصم ولا غائبا، إنكم تدعون سميعا قريبا وهو معكم (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4205)۔ یعنی تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو، بلکہ اس کو پکار رہے ہو جو سننے والا، قریب اور تمھارے ساتھ ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ اپنے مشن کے سلسلے میں پیغمبر اسلام کا طریقہ لو پروفائل میں کام کرنے کا طریقہ تھا، ہائی پروفائل میں کام کرنا پیغمبر اسلام کا طریقہ نہیں۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ ہائی پروفائل میں کام کرنا، ہمیشہ مخالفین کے اندر اشتعال پیدا کرتا ہے۔ وہ ابتدائی دور ہی میں مشن کی مخالفت میں کھڑے ہو جاتے ہیں، اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ مشن آگے نہ بڑھنے پائے۔ اس کے برعکس، لو پروفائل میں صاحبِ مشن کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ تمام ممکن مواقع کو استعمال کر کے اپنا کام کرتا رہے۔ یہاں تک کہ اس کے مخالفین صرف اس وقت اس کا نوٹس لیں، جب کہ مشن اتنا مستحکم ہو چکا ہو کہ کسی مخالف کی مخالفت اس کو رو کنے والی ثابت نہ ہو سکے۔ پیغمبر اسلام نے اپنے مشن کے پورے دور میں خاموش عمل کا یہی طریقہ اختیار کیا۔

فتنہ کو نہ بھڑکانا

ایک حکمت کی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: الفتنة نائمة لعن الله من أيقظها (التدوين في أخبار قزوين، أبو القاسم الرافعي، 1/291)۔ فتنہ سویا ہوا ہے، اللہ نے اس پر لعنت کیا ہے جو اس کو جگائے۔ یہ حدیثِ رسول بتاتی ہے کہ اجتماعی زندگی کو پرسکون بنانے کے لیے دانش مندانہ اصول کیا ہے۔ وہ ہے سوئے ہوئے فتنہ کو نہ جگانا۔

یہاں فتنہ سے مراد انسان کی انا (ego) ہے۔ ایگو ایک سویا ہوا فتنہ ہے۔ اس کو چھوڑ دیا جائے تو وہ سویا رہے گا، اور اگر اس کو چھیڑ دیا جائے تو وہ ایک شدید مسئلہ بن جائے گا۔ ایگو ایک پوٹینشیل (potential) فتنہ ہے، وہ واقعہ اس وقت بنتا ہے جب کہ اس کو چھیڑ کر جگا دیا جائے۔ انسان کی انا (ego) میں نفرت اور غصہ بھرا ہوا ہے۔ لیکن عام حالت میں وہ صرف بطور

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page