فتنہ کو نہ بھڑکانا
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۱
امکان ہوتا ہے۔ اس امکان کو واقعہ بنانا، خود صاحب ایگو کی طرف سے نہیں ہوتا، بلکہ وہ دوسرے کی طرف سے ہوتا ہے۔ دوسرا آدمی چاہے تو اس امکان کو سویا ہوا رہنے دے، یا اس کو جگا کر اپنے لیے مسئلہ بنالے۔ اسی لیے کہا گیا ہے:
When one's ego is touched, it turns into super ego, and the اجتماعی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کی بات دوسرے کے لیے ناپسند بن جاتی ہے۔ یہی لمحہ ہے جب کہ آدمی کا ایگو بھڑک اٹھتا ہے۔ لیکن پہلا آدمی اگر خاموشی اختیار کر لے تو دوسرے آدمی کا ایگو بھڑک کر رہ جائے گا۔ وہ بڑھ کر خطرناک مسئلہ نہیں بنے گا۔ کامیاب زندگی کی حکمت یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کے ایگو کو بھڑکنے نہ دے، وہ سوئے ہوئے ایگو کو سویا رہنے دے۔ کوئی دشمن نہیں پیغمبرِ اسلام کو ایک دانش مندانہ طریقہ قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔ یعنی اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، انسانوں میں جو تقسیم ہے، وہ دوست اور دشمن کی نہیں، بلکہ دوست اور بالقوہ دوست (potential friend) کی ہے۔ یعنی دانش مند انسان وہ ہے جو دوست اور دشمن کی بنیاد پر اپنا منصوبہ نہ بنائے، بلکہ اس کا منصوبہ اس سوچ کے تحت ہونا چاہیے کہ کچھ لوگ اگر بظاہر دوست ہیں تو دوسرے لوگ بالقوہ دوست (potential friend) ہیں۔ اس لیے دانش مند انسان کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مثبت منصوبہ بندی (positive planning) کے ذریعہ وہ بالقوہ دوست کو بھی اپنا دوست بنا کر ان کو اپنے ساتھیوں میں شریک کرلے۔ اپنے زمانے کو جاننا ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: وعلى العاقل أن يكون بصيرا بزمانه
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues