Al-Risala · April 2018 · page 48

مس ایڈونچرزم

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۴۸

ذریعہ لائبریری کے ممبران سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر محمد عبداللہ (کولکاتا ٹیم)نے نے سی پی ایس مشن کے حوالے سے کئی باتیں رکھیں اور انٹرایکشن بھی ہوا۔ اس نشست میں کئی برادران وطن بھی موجود تھے۔ اس دورے کا دوسرا پروگرام کلب ہاؤس میں ہوا، جس میں جناب اروند کمار مینیجر جسکو (ٹاٹا اسٹیل) اور دیگر سر آوردہ لوگوں نے شرکت کی، یہاں پیس اور اسپرچولٹی کے موضوع پر باتیں ہوئیں، اور سی پی ایس کا تفصیلی تعارف کروایا گیا۔ اس پروگرام کو عیاض صاحب نے آرگنائز کیا تھا۔ پروگرام میں موجود لوگوں نے سی پی ایس کے کام کو کافی پسند کیا۔ ● دعوہ میٹ: 25- 23 دسمبر 2017 کونا گپور میں سی پی ایس ٹیم کی نیشنل دعوہ میٹ ہوئی۔ اس میں ہندوستان میں موجود تقریباً تمام ٹیموں نے حصہ لیا۔ اس دوران انھوں نے اپنا احتساب کیا، اور نئے عزم کے ساتھ دعوتی کام کو آگے بڑھانے کا عزم کیا۔

● ملاء قوم میں دعوت: ڈاکٹر محمد اسلم خان (سہارن پور)، سی پی ایس کے بہت ہی متحرک داعی ہیں۔ کوئی بھی موقع ہو وہ دعوتی کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً 16 ستمبر 2017 کو انھیں ہوٹل تاج، نئی دہلی میں رورل ہیلتھ کیئر کے لیے امراجالا ایکسلنس ایوارڈ 2017 سے نوازا گیا۔ اس موقع پر چار مرکزی وزراء مسٹر سریش پر بھو، مسٹر مختار عباس نقوی، مزانوپریا پٹیل، اور شری ستپال سنگھ موجود تھے۔ سامعین کی بڑی تعداد ملاء قوم سے تعلق رکھتی تھی۔ ان تمام کو انھوں نے ترجمہ قرآن اور پیس لٹریچر دیا۔ اس کے علاوہ 9 نومبر 2017 کو اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ شری ترویندر سنگھ راوت نے انھیں ادے شری ایوارڈ دیا، اور 20 دسمبر 2017 کو انھیں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ مسٹر یوگی ناتھ آدتیہ نے ہیلتھ کیئر کے لیے ایوارڈ سے نوازا تھا۔ ان دونوں موقعوں پر انھوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ تمام لوگوں کو، بشمول وزراء، ترجمہ قرآن اور پیس لٹریچر دیا۔ نیز اسی درمیان 21 ستمبر 2017 کو انھوں نے اپنی فیملی اور مشن کے ساتھیوں کے ساتھ جا کر مظفر نگر سینٹرل جیل میں جیل سپرنٹنڈنٹ، جیلر اور قیدیوں کے درمیان خدا کی کتاب کو تقسیم کیا۔

● بہار اور جھارکھنڈ سے ملی خبر کے مطابق، 21 نومبر 2017 کو مولانا سعید خان ندوی (شیر گھاٹی، گیا، بہار) کی ہمشیرہ کا نکاح مولانا محمد یاسین ندوی کے ساتھ ہوا۔ حافظ ابو الحکم محمد دانیال (صدر، سینٹر فار پیس اینڈ آبجیکٹو سٹڈیز، بہار و جھارکھنڈ) نے اپنے رفقاء کے ساتھ اس تقریب میں شرکت کی۔ یہاں ندوی فضلاء اور دوسرے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے ساتھ کئی علمی و دعوتی نشستیں ہوئیں۔ مثلاً ظہر تا عصر ہندوستان میں دعوتی کام کے امکانات کے موضوع پر اور پھر مغرب سے رات 10 بجے تک مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ مولانا خالد ندوی (امام محمد رفیع مسجد، باندرہ، ممبئی) نے کہا کہ آج میرے بہت سارے سوالوں کا جواب مل گیا اور آپ نے اپنے دعوتی تجربات بتائے اس سے بہت حوصلہ ملا۔ بزرگ عالم دین اور کئی کتابوں کے مصنف مولانا عبیداللہ ندوی نے کہا کہ آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں عملی طور پر اسی کام کی ضرورت ہے۔ مجھے آپ کا کام اور کام کرنے کے طریقے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues

Printed page