Al-Risala · April 2018 · page 49

مس ایڈونچرزم

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۴۹

سے بہت خوشی ہوئی۔ اس کے بعد 26 نومبر 2017 کو جاگرن نیوز گروپ نے پورنیہ میں مدرسہ کے فارغین کے لیے ایک سیمینار The Significance and Role of Education in Nation Building کا انعقاد کیا تھا۔ اس سیمینار میں حافظ ابو الحکم محمد دانیال نے اپنی ٹیم کے ساتھ شرکت کی اور موضوع پر تقریر کی۔ اس موقع پر اعلیٰ نمبروں سے پاس ہونے والے طلبہ کو انعام سے نوازا گیا۔ اختتام پر تمام حاضرین کو قرآن کا ترجمہ اور سیرت کی کتابیں تحفہ میں دی گئیں۔ نیز 1 دسمبر 2017 کو دلسنگھ سرائے، سمستی پور کے مولوی چک میں ربیع الاول کے موقع پر سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان سے ایک پروگرام ہوا۔ اس مناسبت سے سینٹر فار پیس اینڈ آبجیکٹو سٹڈیز کی ٹیم نے دلسنگھ سرائے کا دوروزہ دعوتی سفر کیا۔ پروگرام میں حافظ ابو الحکم محمد دانیال نے سیرت کے موضوع پر خصوصی خطاب پیش کیا۔ خطاب کے بعد تمام لوگوں کو سیرت کی کتاب تحفہ میں دی گئیں۔ دوسرے دن سینٹر کی ٹیم نے علاقے کے مختلف لوگوں سے میٹنگ کی اور انہیں مشن سے متعارف کیا۔ اس سفر میں حافظ ابو الحکم محمد دانیال کے علاوہ جناب عزیز الرحمن، محمد ثناء اللہ، محمد مشتاق اور دلسنگھ سرائے ٹیم کے حاجی ادریس محمد نفیس، محمد انعام، محمد نصیر الدین، مولانا شعیب اور محمد شاہ جہاں صاحبان شامل تھے۔ بہار کا گیا ضلع بدھ مذہب کے ماننے والوں کا مرکز ہے۔ اس لیے وہاںپوری دنیا کے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ یہاں الرسالہ مشن سے تعلق رکھنے والے دعاة نانو کلیان سمتی (812273742 :Mobile) نامی این جی او کے ذریعہ دعوتی کام کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً انھوں نے 17 تا 28 جنوری 2018 کو نگما ٹیمپل (Nigma Temple) بودھ گیا میں 29th ورلڈ پیس پر یہ (Prayer for world peace) کے موقع پر بڑی تعداد میں ترجمہ قرآن اور دعوتی لٹریچر تقسیم کیا۔ قرآن جن زبانوں میں تقسیم کیا گیا، وہ یہ ہیں: انگریزی، ہندی، جرمن، پرتگیز، اسپینش، ڈچ، رشین، اٹالین، چائنیز، پنجابی، مراٹھی، تیلگو، تمل، ملیالم، گجراتی، وغیرہ۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں دعوتی کام سے دلچسپی رکھنے والے، یہاں سے ترجمہ قرآن و دعوتی لٹریچر منگوا کر تقسیم کرتے ہیں۔ جیسے رانچی، اورنگ آباد، جنے پور، ناگپور، ہاپوڑ (یوپی)، وغیرہ۔

جناب ثناء اللہ صاحب اکولہ (9579733042 :Mobile) سے لکھتے ہیں کہ 18 جنوری 2018 کو میری دکان میں دو ہندو بھائی آئے۔ میرے کاریگر گنیش والو کرنے ان دونوں کو مراٹھی ترجمہ قرآن اور دیگر کتابیں دیں، اور ان سے پندرہ منٹ تک بات کی۔ دوران گفتگو گنیش نے ان سے کہاکہ قرآن کو کسی لیکھک (مصنف) کی کتاب سمجھ کر پڑھنا، اگر تم اس کو کسی لیکھک کی کتاب سمجھ کر پڑھو گے تو تم اس کو نہیں سمجھو گے اور اگر تم اس کو ایشور کی کتاب سمجھ کر پڑھو گے تو تم کو یہ کتاب سمجھ میں آئے گی۔ ان لوگوں نے یہ کتابیں بڑے شوق سے حاصل کی۔ اسی طرح 13 فروری 2018 کو سابق مقامی کونسلر صبح کے وقت میرے پاس آئے اور آتے ہی کہا کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کی جتنی کتابیں آپ کے پاس ہیں، وہ آپ مجھے دیں، کسی دوسرے لیکھک کی کتاب نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues

Printed page