Al-Risala · April 2018 · page 50

مس ایڈونچرزم

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۸، صفحہ ۵۰

چاہئے۔ اس سے پہلے میں نے ان کو پرافٹ آف پیس کا مراٹھی ترجمہ’’شانتی چے پروشت محمد‘‘ دی تھی، جس سے وہ بہت متاثر ہوئے، اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کوئی مسلمان ہی نظر نہیں آتا، جو اسلام کی ان باتوں پر عمل کرتا ہو، ایسا لگتا ہے جیسے ہر مسلمان اپنی مرضی سے جی رہا ہے۔ اسی طرح کچھ عرصے پہلے مقامی پولیس اسٹیشن سے دو پولیس والے آئے اور کہا کہ پولیس اسٹیشن میں آپ کی چرچا ہوتی ہے کہ آپ شانتی اور بھائی چارہ (peace and harmony) کے لیے کام کرتے ہیں۔ ہمیں اس قسم کی کچھ کتابوں کی ضرورت ہے، آپ مجھے وہ کتابیں مہیا کریں۔ جوان کو دی گئی۔ انھوں نے بھی یہ کتابیں بڑی شوق سے لیں۔

ناگپورو کامٹی CPS ٹیم کے ایک ممبر محمد اکرم صاحب (Mobile: 8983218667) اکثر سفر کرتے ہیں اور اس دوران وہ دعوہ ورک بھی کرتے ہیں۔ بروز بدھ، مورخہ 17 جنوری 2018 وہ ناگپور سے وردھا کا سفر بذریعہ ٹرین کر رہے تھے۔ سفر کے دوران انہوں نے مولانا وحید الدین خان صاحب کی کتاب، اسلام کیا ہے، کا مطالعہ شروع کر دیا۔ ان کے ہم سفر ایک کشمیری مسلمان بھی تھے۔ انھوں نے اکرم صاحب کو کتاب پڑھتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ مجھے بھی کوئی کتاب دیجیے ۔ اکرم صاحب کے بیگ میں اس کتاب کی مزید کاپیاں تھیں، انھوں نے اس کتاب کے ساتھ اردو ترجمہ قرآن، انسان اپنے آپ کو پہچان بھی انھیں دے دیا۔ ڈبے میں بیٹھے چند اور مسلم حضرات نے بھی مطالبہ کیا، انھیں بھی کتابیں دے دی گئیں۔ یہ دیکھ کر ایک ہندو بھائی نے پوچھا کیا آپ کے پاس مراٹھی قرآن بھی ہے۔ اکرم صاحب نے ان کو مراٹھی قرآن، مریتیو چے اسمرن، اسلام پرتیجے، جیونا چاو استو، کتابیں دی ۔ وہ بہت زیادہ خوش ہوئے۔ یہ دیکھ کر پاس میں بیٹھے ہوئے چار ہندو بھائیوں نے بھی مطالبہ کیا۔ انہیں بھی یہ کتابیں دے دی گئیں۔ سبھی لوگوں نے خوشی کے ساتھ اسے قبول کیا، اور کہا کہ اصل کام آپ کر رہے ہیں ۔ اس کی آج بہت ضرورت ہے ۔ میں نے سوچا الحمد للہ دعوت کا کام کرنا کتنا آسان ہے۔ کاش یہ بات ہر مسلمان مردو عورت کی سمجھ میں آجائے۔ (محمد عرفان رشیدی، کامٹی، ناگپور)

I have completed reading Maulana’s Mutala-e-Seerat. By the Grace of Allah, I understood as to why Allah asked us to follow the Prophet’s life pattern. A Muslim can never feel that he has no purpose to live at any point of time, as there is a continuous task of self-purification and the task of sharing the message with others until his death. My conviction for both the tasks has increased many folds. My conviction about the Hereafter and Islam as the true revealed religion of God Almighty is also getting deeper. All these years, I was reading only those kinds of books that contained dos and don’ts, but after reading this book, I felt that being a born Muslim, knowing some history about Islam is not enough for true conviction or belief. Maulana's way of writing is God’s greatest blessing for this generation. Spirit of Islam, the English Magazine, also has articles which are also very inspirational for personality development. (Mrs. Asra, Bangalore)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2018 All issues

Printed page