غصہ سے بچو
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۲
(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ یعنی عقل مند وہ ہے جو اپنے زمانے سے باخبر ہو۔ یہاں زمانے سے مراد خارجی حالات ہیں۔ آدمی عام طور پر اپنے آپ میں جیتا ہے۔ اپنے سے باہر کے حالات کی اس کو خبر نہیں ہوتی ہے۔ ایسے آدمی کا منصوبہ حالات سے ٹکرا جائے گا۔ وہ اپنے منصوبہ کو کامیابی تک پہنچانے والا نہ سکے گا۔
اس دنیا میں آدمی ہمیشہ کچھ حالات کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ حالات وہ خود نہیں بناتا، بلکہ خارج کا جو ماحول ہے، وہ ان حالات کی تشکیل کرتا ہے۔ یہ حالات اتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ آدمی ان کو بدلنے پر قادر نہیں ہوتا ہے۔ اگر آدمی اپنے حالات سے ٹکرا جائے تو وہ خود ٹوٹ ٹوٹ جائے گا۔ لیکن حالات جیسے تھے، ویسے ہی رہیں گے۔ ایسی صورت حال میں دانش مندی یہ ہے کہ آدمی اپنے ساتھ دوسروں کو بھی جانے۔ وہ اپنی ذاتی خواہشوں کے ساتھ خارجی حالات کے تقاضوں سے باخبری حاصل کرے۔ ایسے آدمی کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ اپنا منصوبہ صحیح اصولوں کی بنیاد پر بنائے ۔ وہ حالات زمانہ کی رعایت کرتے ہوئے، اپنا سفر حیات کامیابی کے ساتھ طے کرے۔ اس قسم کی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی (realistic planning) کامیابی کا واحد یقینی راز ہے۔
غصہ سے بچو
ایک آدمی پیغمبر اسلام کے پاس آیا۔ اس نے کہا: أخبرني بكلمات أعيش بهن ولا تكثر علي فأنسى؟ قال: اجتنب الغضب، ثم أعاد عليه فقال: اجتنب الغضب (مسند احمد، حدیث نمبر 23468)۔ یعنی مجھے ایسی بات بتائیے، جس میں میں جیوں، اور بات مختصر ہوتا کہ میں اس کو بھول نہ جاؤں۔ آپ نے کہا: غصہ سے بچو، اس نے اپنی بات کو دہرائی، آپ نے دوبارہ کہا: غصہ سے بچو۔ اس حدیث پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ غصہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ غصہ کوئی آدمی دوسرے کے خلاف کرتا ہے۔ لیکن غصہ کا نقصان آدمی کو خود بھگتنا پڑتا ہے۔ غصہ آدمی کی سوچ کو غلط رخ پر موڑ دیتا ہے۔ عام حالت میں آدمی مثبت انداز میں سوچتا ہے۔ وہ معتدل انداز میں رائے قائم کرتا ہے۔ لیکن غصہ آتے ہی اس کی سوچ غیر معتدل ہو جاتی ہے۔ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنے کے قابل
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues