Al-Risala · January 2018 · page 23

آسان کا انتخاب

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۳

نہیں رہتا۔ جو آدمی غصہ میں مبتلا ہو جائے، وہ جذبات کے تحت ایسے فیصلے کرتا ہے، جو جذبات سے خالی آدمی کبھی نہیں سوچے گا۔

غصہ کا سب سے زیادہ تباہ کن انجام یہ ہے کہ غصہ ہمیشہ دو طرفہ بن جاتا ہے۔ آپ غصہ ہو کر دوسرے شخص کو بھی غضبناک بنا دیتے ہیں۔ غصہ دوسرے شخص کو جوابی غصہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس طرح غصہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے رد عمل (reaction) کا سبب بنتا ہے۔ آپ ایک رد عمل ظاہر کرتے ہیں، اس کے بعد دوسرا آدمی مشتعل ہو کر رد عمل کا طریقہ اختیار کر لیتا ہے۔ یہ عمل اور رد عمل بار بار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ رد عمل ایک چین ری ایکشن (chain reaction) بن جاتا ہے۔ اور جب کوئی چیز چین ری ایکشن بن جائے تو پھر اس کا خاتمہ آخری ہلاکت سے پہلے نہیں ہوتا۔ اس لیے غصہ کے بعد آدمی کے لیے جو صحیح رویہ ہے، وہ صرف ایک ہے۔ وہ ہے غصہ کو یک طرفہ طور پر ختم کر دینا۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (42:37)۔ یعنی جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ غصہ کے نقصان سے بچنے کے لیے یک طرفہ صبر کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔

آسان کا انتخاب

پیغمبر اسلام کی زندگی کے ایک معمول کو پیغمبر اسلام کی زوجہ عائشہ ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں: مَا خُيَّرَ رسول الله صلى الله عليه وسلم في أمرين إلا اختار أيسرهما (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4785)۔ یعنی جب بھی پیغمبر اسلام کو دو صورتوں میں ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملات میں پیغمبر اسلام کی عام پالیسی کیا تھی۔ وہ تھی مشکل کے مقابلے میں آسان کا انتخاب کرنا۔

ہر صورت حال میں آدمی کے سامنے دو قسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک، مسائل (problem) اور دوسرا، مواقع (opportunities)۔ اس وقت آدمی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ہمیشہ مواقع کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page