دعا کی حقیقت
الرسالہ، مئی ۲۰۱۸، صفحہ ۲۰
دعا کی حقیقت
دعا اگر صالح دعا ہو تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ لیکن بڑی بڑی دعائیں ہمیشہ تاخیر کے ساتھ قبول ہوتی ہیں۔ اس کی ایک مثال حضرت ابراہیم کی دعا ہے۔ حضرت ابراہیم نے تعمیر کعبہ کے وقت ایک آخری پیغمبر کے ظہور کی دعا کی تھی (البقرۃ، 129:2)۔ یہ دعا قبول ہوئی۔ لیکن اس پیغمبر کا ظہور عملاً دعا کے تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد پیش آیا۔ تاریخ کے بڑے بڑے واقعات ہمیشہ اسی طرح لمبی مدت کے بعد ظہور میں آتے ہیں۔ بڑی بڑی دعاؤں کے لیے پوری تاریخ کو پیچ کرنا پڑتا ہے۔ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، حالات کو اس کے مطابق بنانا پڑتا ہے۔ اس لیے قانون قدرت کے مطابق، کوئی بڑی دعا کبھی اس طرح قبول نہیں ہوتی کہ دعا کرنے والے نے دعا کیا۔ اور اس کے فوراً بعد اس کی قبولیت بھی سامنے آگئی۔
دعا کے بارے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (2:186)۔ یعنی اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، پس ان کو چاہیے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر یقین کریں، تا کہ وہ ہدایت پائیں۔
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا بندے کے قریب ہے۔ اور وہ بندے کی دعا کا جواب دیتا ہے۔ لیکن جواب کی صورت کیا ہوتی ہے، اس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں موجود نہیں۔ اجیب دعوة الداع اذا دعان کے فوراً بعد جو الفاظ آئے ہیں، وہ یہ ہیں: فليستجيبو لى وليؤ منوا بي لعلھم يرشدون۔ یعنی ان کو چاہیے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر یقین کریں، اسی میں ان کی فلاح ہے۔
یہاں دعا کے بعد جواب دعا کا ذکر نہیں۔ یہ قرآن کا ایک خاص اسلوب ہے کہ اس میں کسی