آسان کا انتخاب
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۴
اویل (avail) کرنے کا انتخاب کرتے تھے، نہ کہ مسائل سے ٹکراؤ کرنا۔
یہاں آسان کا لفظ اور مشکل کا لفظ اپنے ظاہری معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملات میں پیغمبر اسلام کی پالیسی یہ تھی کہ معاملات میں ایسے طریقہ کو اختیار کیا جائے جو قابل عمل (workable) ہو، جس پر کوئی نیا مسئلہ پیدا کیے بغیر عمل کرنا ممکن ہو۔ یہاں آسانی کا لفظ قابل عمل (workable) کے معنی میں ہے۔ یعنی ایسا طریقہ جس کو اختیار کرنے سے کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ ہو، کوئی نیا مسئلہ پیدا کیے بغیر اس پر عمل کیا جا سکے۔ اس کے مقابلے میں ایک طریقہ وہ ہے جس پر عمل کرنے سے مسئلے میں اضافہ ہوتا ہو۔ ایسا طریقہ آپ کبھی اختیار نہیں کرتے تھے۔ مثلاً اگر ایک معاملے میں پرامن طریقہ اختیار کرنا ممکن ہو تو آپ کبھی تشدد کا طریقہ اختیار نہیں کرتے تھے۔ کیوں کہ پرامن طریقہ مسئلے میں اضافہ کیے بغیر قابل عمل ہوتا ہے، جب کہ تشدد کا طریقہ ہمیشہ مسئلہ میں اضافہ کرتا ہے۔ مثلاً پر تشدد طریقے میں تشدد پر نفرت کا اضافہ ہوتا ہے، وغیرہ۔
اگر آپ مسائل سے اپنا عمل شروع کریں تو فورا ہی آپ کا دوسروں سے ٹکراؤ ہو جائے گا۔ نامعلوم مدت تک آپ مسائل سے ٹکرانے میں لگے رہیں گے، اور یہ عمل مشت رہے گا کہ آپ کے لیے مواقع کو اویل کرنے کا وقت آتا ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، اگر آپ مسائل سے اعراض کریں اور مواقع کو اویل کرنے سے اپنا عمل شروع کریں تو پہلے دن آپ کو اپنے عمل کا آغاز مل جائے گا۔ آپ پہلے دن سے مواقع کو اویل کرنا شروع کردیں گے۔ آپ کا ہر قدم آگے کی طرف جانے کے ہم معنی ہوگا۔ اسی کا نام منصوبہ بہ بند عمل ہے۔ منصوبہ بند عمل ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، غیر منصوبہ بند عمل کے بارے میں کچھ نہیں معلوم کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ انسان رخی طرز فکر پیغمبر اسلام کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آیا ہے: كان سهل بن حنیف، وقیس بن سعد قاعدین بالقادسية، فمروا عليهما بجنازة، فقاما، فقيل لهما
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues