آسان کا انتخاب
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۵
إنها من أهل الأرض أي من أهل الذمة، فقالا : إن النبي صلى الله عليه وسلم مرت به جنازة فقام، فقيل له: إنها جنازة يهودي، فقال : أليست نفسا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1312)۔ یعنی سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لے کر گزرے تو یہ دونوں کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے کہا کہ جنازہ تو ذمیوں کا ہے (جوغیر مسلم ہیں)۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس سے اسی طرح سے ایک جنازہ گزرا تھا۔ آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ یہ یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں؟
اس حدیث سے ایک اہم بات معلوم ہوتی ہے، اور وہ سماجی دانش مندی (social wisdom) ہے۔ سماج یا انسانی اجتماع ہمیشہ مختلف قسم کے انسانوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ لوگوں میں اختلافات پیدا ہو جائیں۔ لوگ کسی کو اپنا دشمن سمجھیں، اور کسی کو دوست، لوگ کسی کو اپنا سمجھیں اور کسی کو غیر کسی کے بارے میں وہ مثبت ہوں اور کسی کے بارے میں منفی۔ یہ کلچر پورے سماج کو ابدی طور پر غیر معتدل سماج بنا دیتا ہے۔
اس لیے اس طرح کی صورت حال کا بہترین حل یہ ہے کہ ہر انسان کو انسان سمجھا جائے۔ ہر انسان کے بارے میں انسان رخی رویہ(human-friendly behaviour) اختیار کیا جائے۔ ہر انسان کو اپنے جیسا انسان سمجھا جائے۔ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت (mutual respect) کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
پیغمبر اسلام نے خود اپنے عمل سے اس کا نمونہ قائم کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے مدینہ ایک مختلف مذاہب کا معاشرہ تھا۔ پیغمبر اسلام نے اپنے عمل سے یہ ماڈل قائم کیا کہ ہر ایک انسان کے ساتھ یکساں طور پر عزت کا معاملہ کرنا۔ ہر انسان کو یکساں طور پر ایک ہی خالق کا پیدا کیا ہوا انسان سمجھنا۔ یکساں طور پر ہر ایک سے با عزت سلوک کا معاملہ صرف اخلاقی بات نہیں۔ اس کا تعلق براہ راست طور پر انسان کی ترقی سے ہے۔ ایسے ماحول میں سماج کا ہر فرد ایک دوسرے کا خیر خواہ ہوگا۔ ہر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues