Al-Risala · January 2018 · page 26

آسان کا انتخاب

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۶

انسان قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا مالک ہوگا۔ ہر انسان کو یہ موقع ہوگا کہ وہ خود بھی ترقی کرے، اور دوسروں کو بھی ترقی کا موقع دے۔ اس کے برعکس، اگر لوگ اس احساس میں جئیں کہ فلاں شخص ان کا اپنا ہے، اور فلاں شخص ان کا غیر۔ تو ایسے سماج کا ہر فرد اپنی سوچ کے اعتبار سے غیر معتدل ہو جائے گا۔ وہ خود بھی سماج کا ایک پرابلم ممبر (problem member) بنارہے گا، اور دوسروں کو بھی بلا اعلان یہ دعوت دے گا کہ تم بھی سماج کے پرابلم ممبر بن جاؤ۔ قناعت واحد حل ہے ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: لو كان لابن آدم واديان من مال لابتغى ثالثا، ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب، ويتوب الله على من تاب (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6436)۔ یعنی اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کا خواہشمند ہوگا، اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی، اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔ انسان پیدائشی طور پر لامحدود کا طالب ہے۔ کوئی محدود چیز خواہ بظاہر کتنی ہی بڑی دکھائی دے، وہ کبھی انسان کو مطمئن کرنے والی نہیں۔ انسان کو اس دنیا میں عملاً جو کچھ ملتا ہے، وہ ہمیشہ محدود ہوتا ہے۔ طلب اور مطلوب میں یہی تضاد ہے، جو ہمیشہ انسان کو غیر مطمئن رکھتا ہے۔ انسان کا یہ عدم اطمینان (discontentment) بے فائدہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک اہم تخلیقی حکمت ہے۔ وہ حکمت یہ ہے کہ انسان اپنا مطلوب آخرت کو بنائے، نہ کہ دنیا کو۔ انسان کو پیدائشی طور پر معیار کا طالب (ideal seeking) بنایا گیا ہے۔ جب کہ دنیا میں اس کے لیے جو قابل حصول چیزیں ہیں، وہ اس کی طلب سے بہت کم ہیں۔ آدمی بہت چاہتا ہے، مگر ہمیشہ اس کو کم ملتا ہے۔ آدمی ہمیشہ بہت زیادہ کا منصوبہ بناتا ہے لیکن اپنے منصوبہ کی تکمیل سے پہلے انسان اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔

طالب اور مطلوب میں یہ فرق اس لیے نہیں ہے کہ آدمی غیر مطمئن بنا رہے ۔ بلکہ وہ اس لیے ہے کہ انسان غور وفکر کے ذریعہ یہ دریافت کرے کہ اس کی طلب کا مطلوب کہاں ہے۔ جو آدمی اس

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page