Al-Risala · January 2018 · page 27

ہر ایک کے لیے خیر

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۷

طرح سوچے وہ دانشمندانہ سوچ کا حامل بنے گا۔ وہ اپنی زندگی کی صحیح منزل کو جان لے گا۔ وہ جان لے گا کہ اس کے مطلوب کا نہ ملنا ایک اہم حکمت کے سبب سے ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ اس کا ذہن ہمیشہ متحرک رہے، وہ کبھی جمود کا شکار نہ ہونے پائے۔

دنیا میں انسان کا یہ عدم اطمینان اس کو ابدی جنت کا طالب بناتا ہے۔ وہ اس پر غور وفکر کر کے اپنے مقصد اصلی کو جان لیتا ہے۔ وہ یہ جان لیتا ہے کہ اس کو کس طرح سچا طالب (true seeker) بننا چاہیے۔ یہ چیز آدمی کو بھٹکنے سے بچا کر صحیح رخ پر سوچنے والا بنا دیتی ہے۔ جو آدمی اس طرح سوچے وہ کبھی منفی سوچ کا شکار نہ ہوگا، وہ ہمیشہ مثبت سوچ کا حامل بنا رہے گا، اور اس دنیا میں سب سے بڑی سوچ مثبت سوچ ہے۔

ہر ایک کے لیے خیر

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: المؤمن القوي، خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كل خير احرص على ماينفعك، واستعن بالله ولا تعجز، وإن أصابك شيء، فلا تقل لو أني فعلت كذا وكذا، ولكن قل قدر الله وما شاء فعل، فإن لو تفتح عمل الشيطان (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ یعنی ضعیف مومن کے مقابلے میں قوی مومن کے لیے خیر ہے، اور وہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے، لیکن ہر ایک میں خیر ہے۔ حرص کرو اس کی جو تم کو فائدہ پہنچائے۔ اللہ سے مدد مانگو، کمزوری نہ دکھاؤ۔ اگر تم کو نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو ایسا ہوتا۔ لیکن کہو اللہ نے مقدر کیا تھا، اور اس نے جو چاہا، وہی ہوا۔ کیوں کہ اگر “شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔

اس حدیث سے تخلیق کی ایک حکمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ بظاہر کوئی شخص کمزور دکھائی دے تو یہ کمزوری ایک اعتبار سے ہوگی، ہر اعتبار سے نہیں۔ یہ تخلیق کا اصول ہے کہ اگر آدمی ایک اعتبار سے کمتر ہوتا ہے تو کسی دوسرے اعتبار سے اسے برتر صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص جسمانی اعتبار سے ضعیف ہو تو وہ دماغ کے اعتبار سے قوی ہوگا۔ کوئی شخص یاد (memory) کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page