Al-Risala · January 2018 · page 28

باشعور انسان کا معاملہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۸

اعتبار سے کم ہو تو وہ تجزیہ (analysis) کے اعتبار سے زیادہ ہوگا۔ کوئی شخص بزنس کے اعتبار سے کم ہو تو وہ علم کے اعتبار سے زیادہ ہوگا، وغیرہ۔

موجودہ زمانے میں یہ بات ریسرچ سے ثابت ہوگئی ہے کہ کوئی شخص مطلق معنوں میں قوی یا ضعیف نہیں ہوتا۔ چناں چہ پہلے معذور کے لیے ڈس ایبلڈ (disabled) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ مگر اب یہ لفظ متروک ہو گیا ہے۔ اب ایسے افراد کو ڈفرینٹلی ایبلڈ (differently abled) کہا جاتا ہے ۔ یعنی ایک اعتبار سے معذور اور دوسرے اعتبار سے طاقت ور۔

تخلیق کے اس نظام کا تقاضا ہے کہ آدمی کو کسی بھی حال میں مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے ظاہر پر رائے قائم نہ کرے، بلکہ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ اپنے معاملے پر سوچے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو دریافت (discover) کرے ۔ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے انسان کو جانے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے ۔

باشعور انسان کا معاملہ

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عجبا لأمر المؤمن، إن أمره كله خير، وليس ذاك لأحد إلا للمؤمن، إن أصابته سراء شكر، فكان خيرا له، وإن أصابته ضراء، صبر فكان خيرا لہ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 2999) ۔ اس حدیث میں مومن سے مراد معروف معنوں میں صاحب عقیدہ انسان نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد باشعور انسان ہے۔ اس سے مراد وہ انسان ہے جو صاحب معرفت انسان ہو، جو تدبر اور تفکر کی صفت کا حامل ہو۔ جس نے مطالعہ اور غور وفکر کے ذریعہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بنایا ہو۔

ایسا انسان ہر چیز میں اس کے اندر چھپی ہوئی تخلیقی حکمت کو دریافت کرلیتا ہے ۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہے، اس کے اندر یقیناً کوئی گہری حکمت موجود ہے ۔ وہ چیزوں کو ذاتی نگاہ سے نہیں دیکھتا، بلکہ تخلیق کی حکمت کے اعتبار سے دیکھتا ہے ۔ اس ربانی طرز فکر کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ منفی میں مثبت کو دیکھنے والا بن جاتا ہے ۔ وہ اپنے مائنس پوائنٹ میں اپنے پلس پوائنٹ کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page