باشعور انسان کا معاملہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۲۹
دریافت کر لیتا ہے ۔ وہ بظاہر نا امیدی میں امید کے پہلو کو جان لیتا ہے ۔ وہ موت میں زندگی کا سرمایہ دریافت کر لیتا ہے ۔ وہ اپنی شعوری بلندی کی بنا پر شکست میں فتح کار از دریافت کر لیتا ہے۔ چیزوں کو بے آمیز صورت میں دیکھنا پیغمبر اسلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی: اللهم، أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلا ووفقنا لاجتنابه، ولا تجعله ملتبسا علينا فنضل، واجعلنا للمتقين إماما (تفسیر ابن کثیر، یعنی اے اللہ ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور اس کے اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور اس سے بچنے کی توفیق دے، اور اس کو ہمارے اوپر ملتبس نہ کر کہ ہم گمراہ ہو جائیں ، اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔ ایک اور دعا ان الفاظ میں آئی ہے: اللهم أرنا الأشياء كما هي (تفسیر الرازی، 1/119)۔ یعنی اے اللہ، ہمیں چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔
ان دونوں دعاؤں کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کے اندر یہ صفت پیدا ہو کہ وہ بے آمیز انداز میں سوچے ۔ بے آمیز کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ذہنی اعتبار سے اتنا زیادہ ترقی یافتہ ہو کہ وہ حق کو حق کی صورت میں دیکھ سکے ، اور باطل کو باطل کی صورت میں دیکھے ۔ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھے، جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔
یہ وہی سوچ ہے جس کو موضوعی سوچ (objective thinking) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایز اٹ از تھنکنگ (as it is thinking) ۔ آدمی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کسی ماحول میں رہتا ہے ۔ ماحول کے اثر سے اس کے اندر مختلف قسم کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے متاثر ذہن کے تحت چیزوں کے بارے میں رائے قائم کرنے لگتا ہے۔ یہی تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ اسی سے آدمی کے اندر یہ کمزوری آ جاتی ہے کہ وہ چیزوں کو ان کی حقیقت کے اعتبار سے نہیں دیکھ پاتا، بلکہ اپنے متاثر ذہن کے مطابق ایک خود ساختہ رائے بناتا ہے۔
جس انسان کے اندر ایز اٹ از تھنکنگ (as it is thinking) کی صفت ہو، وہ اس
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues